تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: المجادلة ١٢:٥٨

١٢:٥٨
يا ايها الذين امنوا اذا ناجيتم الرسول فقدموا بين يدي نجواكم صدقة ذالك خير لكم واطهر فان لم تجدوا فان الله غفور رحيم ١٢
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِذَا نَـٰجَيْتُمُ ٱلرَّسُولَ فَقَدِّمُوا۟ بَيْنَ يَدَىْ نَجْوَىٰكُمْ صَدَقَةًۭ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌۭ لَّكُمْ وَأَطْهَرُ ۚ فَإِن لَّمْ تَجِدُوا۟ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌ ١٢
يَٰٓأَيُّهَا
ٱلَّذِينَ
ءَامَنُوٓاْ
إِذَا
نَٰجَيۡتُمُ
ٱلرَّسُولَ
فَقَدِّمُواْ
بَيۡنَ
يَدَيۡ
نَجۡوَىٰكُمۡ
صَدَقَةٗۚ
ذَٰلِكَ
خَيۡرٞ
لَّكُمۡ
وَأَطۡهَرُۚ
فَإِن
لَّمۡ
تَجِدُواْ
فَإِنَّ
ٱللَّهَ
غَفُورٞ
رَّحِيمٌ
١٢
يا أيها الذين صدَّقوا الله ورسوله وعملوا بشرعه، إذا أردتم أن تُكلِّموا رسول الله صلى الله عليه وسلم سرًّا بينكم وبينه، فقدِّموا قبل ذلك صدقة لأهل الحاجة، ذلك خير لكم لما فيه من الثواب، وأزكى لقلوبكم من المآثم، فإن لم تجدوا ما تتصدقون به فلا حرج عليكم؛ فإن الله غفور لعباده المؤمنين، رحيم بهم.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 58:12إلى 58:13

اللہ تعالیٰ کو یہ مطلوب تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صرف وہی لوگ ملیں جو فی الواقع سنجیدہ مقصد کے تحت آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔ غیر ضروری قسم کے لوگ چھانٹ دئے جائیں جو اپنی بے فائدہ باتوں سے صرف وقت ضائع کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ اس ليے یہ اصول مقرر کیا گیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے کا ارادہ کرو تو پہلے اللہ کے نام پر کچھ صدقہ کرو۔ اور اگر اس کی قدرت نہ ہوتو کوئی دوسری نیکی کرو۔

یہ حکم اگر چہ اصلاً رسول کے ليے مطلوب تھا۔ مگر رسول کے بعد بھی امت کے رہنماؤں کے حق میں وہ حالات کے اعتبار سے درجہ بدرجہ مطلوب ہوگا۔