تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الملك ١:٦٧

١:٦٧
تبارك الذي بيده الملك وهو على كل شيء قدير ١
تَبَـٰرَكَ ٱلَّذِى بِيَدِهِ ٱلْمُلْكُ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌ ١
تَبَٰرَكَ
ٱلَّذِي
بِيَدِهِ
ٱلۡمُلۡكُ
وَهُوَ
عَلَىٰ
كُلِّ
شَيۡءٖ
قَدِيرٌ
١
تكاثر خير الله وبرُّه على جميع خلقه، الذي بيده مُلك الدنيا والآخرة وسلطانهما، نافذ فيهما أمره وقضاؤه، وهو على كل شيء قدير. ويستفاد من الآية ثبوت صفة اليد لله سبحانه وتعالى على ما يليق بجلاله.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

اس سورت کے آغاز میں اللہ کب برکات پر مشتمل یہ سپاس نامہ اس بات پر دال ہے کہ اللہ کی برکتیں اور اللہ کے کرم ، اور اللہ کے فیوض کی کوئی انتہا نہیں ہے۔ اللہ کی برکتیں اللہ کی سلطنت میں ہیں اور اس کی بادشاہت میں کوئی کمی نہیں۔ اللہ کی ذات اور اللہ کی صفات کی برکات کا فیض عام اس پوری کائنات میں جاری وساری ہے اور یہ پوری کائنتا اس کی حمد گا رہی ہے اور اس لاانتہا وجود کی وادیوں میں اس کی گونج ہے۔ قلب مومن ان برکتوں سے لبالب ہے اور یہ کائنات اس کتاب الٰہی کے ذریعہ قلب مومن پر نازل ہوتی ہے اور اس پوری کائنات میں ان کا ظہور ہے۔

بیدہ الملک (76 : 1) ” جس کے ہاتھ میں سلطنت ہے “۔ وہ اس کائنات کا مالک ہے ، اس کا اس نے احاطہ کررکھا ہے۔ اس کی چوٹی کے بال اس کے ہاتھ میں ہیں ، وہ اس میں متصرف ہے۔ یہ ہے اصل حقیقت کہ اس پوری کائنات کا بادشاہ وہی ہے جب یہ حقیت انسانی ضمیر میں بیٹھ جاتی ہے تو یہ اپنی راہ خود بخود متعین کردیتی ہے اور اس کے بعد پھر کوئی بھی اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کے لئے فارغ نہیں ہوتا۔ پھر وہ ایک ہی آقا ، ایک معبود اور ایک ہی بادشاہ کا قائل ہوتا ہے۔

وھو علی ............ قدیر (76 : 1) ” اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے “۔ کوئی چیز اس پر غالب نہیں ہے ، کوئی چیز اس کے ارادے کے سامنے رکاوٹ نہیں بن سکتی ، اس مشیت کی حدود وقیود سے باہر ، جو چاہتا ہے ، تخلیق کرتا ہے ، جو چاہتا ہے کرتا ہے ، جو چاہے کرسکتا ہے ، جو حکم دے اس کی تعمیل کرواسکتا ہے۔ اس کی قدرت بےحدو بےقید ہے۔ جب یہ حقیقت ذہن میں بیٹھ جائے تو ہمارے احساسات ، تصورات اور عقل میں کسی قوت کے لئے کوئی سوچ جاتی ہے تو اس کی نفی ہوجاتی ہے۔ انسان جو کچھ بھی سوچ سکتا ہے اس کی قدرت اس سے زیادہ ہوتی ہے۔ انسان کا تصور بہت ہی محدود ہے کیونکہ انسان کی ذات اور اس کی فکری کائنات محدود ہے۔ انسان اپنے ماحولیات اور معلومات کے محدود دائرے میں سوچنے کا عادی ہے جو بہت ہی محدود ہوتا ہے۔ یہ حقیقت کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ یہ انسان کو اس محدود دائرے سے نکالتی ہے۔ انسان یقین کرتا ہے کہ اللہ کی قدرت لامحدود ہے تو انسان اپنے آپ کو اس کے حوالے کرتا ہے اور یوں وہ اس محدود سوچ سے لامحدود سوچ کی طرف نکل جاتا ہے ورنہ انسان حاضر وموجود کے محدود تصور ہی کا غلام ہوتا ہے۔