تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: المؤمنون ١٠٦:٢٣

١٠٦:٢٣
قالوا ربنا غلبت علينا شقوتنا وكنا قوما ضالين ١٠٦
قَالُوا۟ رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَيْنَا شِقْوَتُنَا وَكُنَّا قَوْمًۭا ضَآلِّينَ ١٠٦
قَالُواْ
رَبَّنَا
غَلَبَتۡ
عَلَيۡنَا
شِقۡوَتُنَا
وَكُنَّا
قَوۡمٗا
ضَآلِّينَ
١٠٦
لما بلَّغتهم الرسل وأنذرتهم قالوا يوم القيامة: ربنا غلبت علينا لذاتنا وأهواؤنا المقدَّرة علينا في سابق علمك، وكنا في فعلنا ضالين عن الهدى.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 23:99إلى 23:108

آخرت کے مناظر آنکھوں سے دیکھ لینے کے بعد کسی کویہ موقع نہیں دیا جائے گا کہ وہ دوبارہ موجودہ دنیا میں آکر رہے اور صحیح عمل کا ثبوت دے۔ کیوں کہ دنیا کی زندگی کا مقصد امتحان ہے— اس بات کا امتحان کہ آدمی دیکھے بغیر جھکتا ہے یا نہیں۔ جب آخرت کا مشاہدہ کرادیا جائے تو اس کے بعد نہ جھکنے کی کوئی قیمت ہے اور نہ واپس بھیجنے کا کوئی امکان۔

آدمی کا امتحان دیکھ کر ماننے میں نہیں ہے بلکہ سوچ کر ماننے میں ہے۔ طالب علم کی جانچ پرچہ آؤٹ ہونے سے پہلے کی جاتی ہے۔ جب پرچہ آؤٹ ہو کر اخباروں میں چھپ چکا ہو، اس کے بعد کسی طالب علم کی جانچ کرنے کا کوئی سوال نہیں۔