تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: المؤمنون ١٠٧:٢٣

١٠٧:٢٣
ربنا اخرجنا منها فان عدنا فانا ظالمون ١٠٧
رَبَّنَآ أَخْرِجْنَا مِنْهَا فَإِنْ عُدْنَا فَإِنَّا ظَـٰلِمُونَ ١٠٧
رَبَّنَآ
أَخۡرِجۡنَا
مِنۡهَا
فَإِنۡ
عُدۡنَا
فَإِنَّا
ظَٰلِمُونَ
١٠٧
ربنا أخرجنا من النار، وأعدنا إلى الدنيا، فإن رجعنا إلى الضلال فإنا ظالمون نستحق العقوبة.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 23:106إلى 23:107

قالوا ربنا۔۔۔۔۔۔۔ ظلمون (107) ” “ یہ نہایت ہی تلخ اعتراف ہے اور ان کی بدبختی اس میں عیاں نظر آتی ہے۔ انہوں نے حدود سے تجاوز کیا اور سوئے ادب کا ارتکاب کیا کیونکہ ان کو صرف سوال کا جواب دینے کی اجازت تھی۔ بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ سوال ہی محض ذلیل کرنے کے لیے ہو۔ جواب مطلوب ہی نہ ہو۔ اس لیے ان کی اس درخواست کا جواب سختی سے دیا جاتا ہے کیونکہ درخواست ان سے طلب ہی نہ کی گئی تھی۔