تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: المؤمنون ١١٠:٢٣

١١٠:٢٣
فاتخذتموهم سخريا حتى انسوكم ذكري وكنتم منهم تضحكون ١١٠
فَٱتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا حَتَّىٰٓ أَنسَوْكُمْ ذِكْرِى وَكُنتُم مِّنْهُمْ تَضْحَكُونَ ١١٠
فَٱتَّخَذۡتُمُوهُمۡ
سِخۡرِيًّا
حَتَّىٰٓ
أَنسَوۡكُمۡ
ذِكۡرِي
وَكُنتُم
مِّنۡهُمۡ
تَضۡحَكُونَ
١١٠
فاشتغلتم بالاستهزاء بهم حتى نسيتم ذكر الله، فبقيتم على تكذيبكم، وقد كنتم تضحكون منهم سخرية واستهزاء.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 23:109إلى 23:111

دنیا کی زندگی میں جب کہ ابھی آخرت کے حقائق آنکھوں کے سامنے نہیں آئے تھے۔ اس وقت خدا کے کچھ بندوں نے خدا کو اس کے جلال وکمال کے ساتھ پہچانا۔ ان کے سامنے حق کی دعوت مجرد دلائل کی سطح پر آئی۔ اس کے باوجود انھوں نے اس پر یقین کیا۔وہ اس کے بارے میں اس حد تک سنجیدہ ہوئے کہ اسی کو اپنی کامیابی اور ناکامی کا معیار بنا لیا۔ ایک اجنبی حق کے ساتھ اپنی کامل وابستگی کی انھیں یہ قیمت دینی پڑی کہ ماحول میں وہ مذاق کا موضوع بن گئے۔ اس کے باوجود انھوں نے اس سے اپنی وابستگی کو ختم نہیں کیا۔

یہ فکری استقامت ہی سب سے بڑا صبر ہے اور آخرت کا انعام آدمی کو اسی صبر کی قیمت میں ملتا ہے۔ وہی لوگ در اصل کامیاب ہیں جو موجودہ امتحان کی دنیا میں اس صبر کا ثبوت دے سکیں۔