تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: المؤمنون ١١٦:٢٣

١١٦:٢٣
فتعالى الله الملك الحق لا الاه الا هو رب العرش الكريم ١١٦
فَتَعَـٰلَى ٱللَّهُ ٱلْمَلِكُ ٱلْحَقُّ ۖ لَآ إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ رَبُّ ٱلْعَرْشِ ٱلْكَرِيمِ ١١٦
فَتَعَٰلَى
ٱللَّهُ
ٱلۡمَلِكُ
ٱلۡحَقُّۖ
لَآ
إِلَٰهَ
إِلَّا
هُوَ
رَبُّ
ٱلۡعَرۡشِ
ٱلۡكَرِيمِ
١١٦
فتعالى الله الملك المتصرف في كل شيء، الذي هو حق، ووعده حق، ووعيده حق، وكل شيء منه حق، وتَقَدَّس عن أن يخلق شيئًا عبثًا أو سفهًا، لا إله غيره ربُّ العرشِ الكريمِ، الذي هو أعظم المخلوقات.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 23:115إلى 23:118

انسانوں میں دو قسم کے انسان ہیں۔ کوئی انسان با اصول زندگی گزارتا ہے۔ اورکوئی بے اصول۔ کوئی اَن دیکھی صداقت کے ليے اپنے آپ کو قربان کردیتاہے اور کوئی صرف دکھائی دینے والی چیزوں میں مشغول رہتا ہے۔ کوئی حق کی دعوت کو اس کی ساری اجنبیت کے باوجود قبول کرتا ہے۔ اور کوئی اس کو نظر انداز کردیتا ہے اور اس کا مذاق اڑاتا ہے۔ کوئی اپنے آپ کو ظلم سے روکتا ہے، صرف اس ليے کہ خدا نے اس کو ایسا کرنے سے منع کیا ہے۔ کوئی موقع پاتے ہی دوسروں کے ليے ظالم بن جاتا ہے۔ کیوں کہ اس کا نفس اس سے ایسا ہی کرنے کے ليے کہہ رہا ہے۔

اگر اس دنیا کا کوئی انجام نہ ہو، اگر وہ اسی طرح چلتی رہے اور اسی طرح بالآخر اس کا خاتمہ ہوجائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک بے مقصد ہنگامہ کے سوا اور کچھ نہ تھی۔ مگر کائنات کی معنویت اس قسم کے بے معنیٰ نظریہ کی تردید کرتی ہے۔ کائنات کا اعلیٰ نظام اس سے انکار کرتا ہے کہ اس کا خالق ایک غیر سنجیدہ ہستی ہو۔

کائنات اپنے وسیع نظام کے ساتھ جس خالق کا تعارف کرارہی ہے وہ ایک ایسا خالق ہے جو اپنی ذات میں آخری حد تک کامل ہے۔ ایسے خالق کے بارے میں ناقابلِ قیاس ہے کہ وہ دو مختلف قسم کے انسانوں کا یکساں انجام ہوتے ہوئے دیکھے اور اس کو گوارا کرلے۔ یہ سراسر ناممکن ہے۔ یقیناً ایسا ہونے والا ہے کہ مالک کائنات ایک طبقہ کو بے قیمت کردے جس طرح انھوں نے حق کو بے قیمت کیا اور دوسرے طبقہ کی قدر دانی کرے جس طرح انھوں نے حق کی قدر دانی کی۔