تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: المطففين ١١:٨٣

١١:٨٣
الذين يكذبون بيوم الدين ١١
ٱلَّذِينَ يُكَذِّبُونَ بِيَوْمِ ٱلدِّينِ ١١
ٱلَّذِينَ
يُكَذِّبُونَ
بِيَوۡمِ
ٱلدِّينِ
١١
عذاب شديد يومئذ للمكذبين، الذين يكذبون بوقوع يوم الجزاء، وما يكذِّب به إلا كل ظالم كثير الإثم، إذا تتلى عليه آيات القرآن قال: هذه أباطيل الأولين. ليس الأمر كما زعموا، بل هو كلام الله ووحيه إلى نبيه، وإنما حجب قلوبهم عن التصديق به ما غشاها من كثرة ما يرتكبون من الذنوب. ليس الأمر كما زعم الكفار، بل إنهم يوم القيامة عن رؤية ربهم- جل وعلا- لمحجوبون، (وفي هذه الآية دلالة على رؤية المؤمنين ربَّهم في الجنة) ثم إنهم لداخلو النار يقاسون حرها، ثم يقال لهم: هذا الجزاء الذي كنتم به تكذبون.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 83:11إلى 83:13

الذین ........................ الاولین (11:83 تا 13) ” اور اسے نہیں جھٹلاتا مگر ہر وہ شخص جو حد سے گزر جانے والا بد عمل ہے۔ اسے جب ہماری آیات سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے ، ” یہ تو اگلے وقتوں کی کہانیاں ہیں “۔ یہ الزام وہ اس لئے دیتے ہیں کہ قرآن کریم میں امم سابقہ کے قصے اور حالات برائے عبرت لائے گئے ہیں۔ اور ان کے ذریعہ اس کائنات میں چلنے والی سنت الٰہیہ کی نشاندہی کی گئی ہے اور یہ سنت ایک اٹل قانون کی طرح لوگوں کو گرفت میں لیتی ہے۔

اس دست درازی اور تکذیب کے بعد اب ایک سرزنش اور تنبیہہ آتی ہے اور یہ کلا سے شروع ہوتی ہے اور اس میں ان کی اس روش کی اصلی علت اور سبب بتایا جاتا ہے کہ وہ کیوں ظلم کرتے ہیں اور حق کو کو یں جھٹلاتے ہیں ؟ یہ کہ وہ غافل ہوگئے ہیں اور ان کے دل مسخ ہوکر زنگ آلود ہوگئے ہیں۔