تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: المطففين ٣٠:٨٣

٣٠:٨٣
واذا مروا بهم يتغامزون ٣٠
وَإِذَا مَرُّوا۟ بِهِمْ يَتَغَامَزُونَ ٣٠
وَإِذَا
مَرُّواْ
بِهِمۡ
يَتَغَامَزُونَ
٣٠
إن الذين أجرموا كانوا في الدنيا يستهزئون بالمؤمنين، وإذا مروا بهم يتغامزون سخرية بهم، وإذا رجع الذين أجرموا إلى أهلهم وذويهم تفكهوا معهم بالسخرية من المؤمنين. وإذا رأى هؤلاء الكفار أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم، وقد اتبعوا الهدى قالوا: إن هؤلاء لتائهون في اتباعهم محمدًا صلى الله عليه وسلم، وما بُعث هؤلاء المجرمون رقباء على أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم. فيوم القيامة يسخر الذين صدقوا الله ورسوله وعملوا بشرعه من الكفار، كما سخر الكافرون منهم في الدنيا.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

واذامرو .................... یتغامرون (30:83) ” جب ان کے پاس سے گزرتے تو آنکھیں مار مار کر ان کی طرف اشارے کرتے تھے “۔ یعنی وہ آنکھوں سے اشارے کرتے تھے یا ہاتھوں سے اشارے کرتے تھے یا کوئی ایسی حرکت کرتے تھے جو ان کے درمیان مذاق اڑانے کے لئے متعارف تھی ۔ یہ ایسی گری ہوئی حرکت ہوتی جس سے ان کی گستاخی اور بےادبی کا اظہار ہوتا ، یہ حرکت تہذیب کے دائرے سے نکلی ہوئی ہوتی ، اور ایسی حرکات سے ان لوگوں کا مقصد یہ ہوتا کہ اہل اسلام کے دل ٹوٹ جائیں اور ان کو شرمندہ کیا جائے اور وہ اس تحریک کی کامیابی سے مایوس ہوجائیں ، اس لئے یہ لوگ اس طرح کے اشارے کرتے اور چھچھوری حرکات کرتے۔