تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: المطففين ٦:٨٣

٦:٨٣
يوم يقوم الناس لرب العالمين ٦
يَوْمَ يَقُومُ ٱلنَّاسُ لِرَبِّ ٱلْعَـٰلَمِينَ ٦
يَوۡمَ
يَقُومُ
ٱلنَّاسُ
لِرَبِّ
ٱلۡعَٰلَمِينَ
٦
عذابٌ شديد للذين يبخسون المكيال والميزان، الذين إذا اشتروا من الناس مكيلا أو موزونًا يوفون لأنفسهم، وإذا باعوا الناس مكيلا أو موزونًا يُنْقصون في المكيال والميزان، فكيف بحال من يسرقهما ويختلسهما، ويبخس الناس أشياءهم؟ إنه أولى بالوعيد من مطففي المكيال والميزان. ألا يعتقد أولئك المطففون أن الله تعالى باعثهم ومحاسبهم على أعمالهم في يوم عظيم الهول؟ يوم يقوم الناس بين يدي الله، فيحاسبهم على القليل والكثير، وهم فيه خاضعون لله رب العالمين.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 83:4إلى 83:6

الا یظن ............................ العلمین (4:83 تا 6) ” کیا یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ ایک بڑے دن یہ اٹھا کر لائے جانے والے ہیں ؟ اس دن جبکہ سب لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے “۔ ان لوگوں کا معاملہ بہت عجیب ہے۔ صرف یہ یقین کہ ہم نے ایک دن رب العالمین کے سامنے کھڑا ہونا ہے اور اس دن رب العالمین کے سوا اور کوئی مختار نہ ہوگا ، اس کے سوا کوئی آقا نہ ہوگا۔ اور اس دن صرف اللہ کے فیصلے کا انتظار ہوگا۔ اور اللہ کے سوا کوئی ولی اور مددگار نہ ہوگا۔ غرض صرف یہ ایک عقیدہ ہی اس بات کے لئے کافی تھا کہ وہ ڈنڈی مارنے کی اس گھناﺅنی حرکت سے باز آجاتے اور لوگوں کے مال باطل طریقے سے نہ کھاتے اور اپنے اقتدار کو بذریعہ ظلم نہ بناتے اور لوگوں کے حقوق پر ڈاکے نہ ڈالتے۔ لیکن وہ ڈنڈی مارنے کے عمل کو جاری رکھے ہوئے ہیں ، گویا کہ ان کو یقین ہی نہیں ہے کہ انہوں نے ایک دن اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے اور یہ ایک عجیب طرز عمل ہے۔

اس سورت کے پہلے پیراگراف میں ان لوگوں کو مطففین کہا گیا یعنی ڈنڈی مارنے والے جبکہ دوسرے پیرے میں ان کو فجار کہا گیا ہے یعنی بدکار۔ یہاں ان کو بدکاروں کی صف میں شامل کیا جاتا ہے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ ان کے شب وروز کیا ہیں ، اللہ کے نزدیک ان کا مقام کیا ہے ؟ اس زندگی میں یہ کیسے ہیں اور آخرت میں وہ کیسے ہوں گے اور کس قسم کے حالات ان کے انتظار میں ہیں۔