تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: المزمل ١٥:٧٣

١٥:٧٣
انا ارسلنا اليكم رسولا شاهدا عليكم كما ارسلنا الى فرعون رسولا ١٥
إِنَّآ أَرْسَلْنَآ إِلَيْكُمْ رَسُولًۭا شَـٰهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَآ أَرْسَلْنَآ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ رَسُولًۭا ١٥
إِنَّآ
أَرۡسَلۡنَآ
إِلَيۡكُمۡ
رَسُولٗا
شَٰهِدًا
عَلَيۡكُمۡ
كَمَآ
أَرۡسَلۡنَآ
إِلَىٰ
فِرۡعَوۡنَ
رَسُولٗا
١٥
إنا أرسلنا إليكم -يا أهل «مكة» - محمدًا رسولا شاهدًا عليكم بما صدر منكم من الكفر والعصيان، كما أرسلنا موسى رسولا إلى الطاغية فرعون، فكذَّب فرعون بموسى، ولم يؤمن برسالته، وعصى أمره، فأهلكناه إهلاكًا شديدًا. وفي هذا تحذير من معصية الرسول محمد صلى الله عليه وسلم؛ خشية أن يصيب العاصي مثل ما أصاب فرعون وقومه.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 73:15إلى 73:16

انا رارسلنا ............................ رسولا (15) فعصی ................ وبیلا (73:16) ” ہم نے تمہارے پاس اسی طرح ایک رسول بھیجا ہے ، جس طرح ہم نے فرعون کی طرف رسول بھیجا تھا ، فرعون نے اس رسول کی بات نہ مانی تو ہم نے اسے بڑی سختی سے پکڑ لیا “۔ یوں اختصار کے ساتھ ان کے دلوں کے اندر زلزلہ پیدا کیا جاتا ہے اور ان کو اپنے سخت موقف سے اکھارنے کی سعی کی جاتی ہے جبکہ اس سے قبل پہاڑ کے زلزلہ اور ریزہ ریزہ کردینے کا منظر گزر گیا ہے۔ وہ ہے آخرت کا عذاب اور پکڑ اور یہ ہے دنیاوی پکڑ۔ سوال یہ ہے کہ ان دونوں میں جو پکڑ بھی ہو تم اس سے کیسے بچ سکتے ہو ؟ خصوصاً قیامت کی پکڑ تو اس قدر شدید ہوگی :