تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: القارعة ٤:١٠١

٤:١٠١
يوم يكون الناس كالفراش المبثوث ٤
يَوْمَ يَكُونُ ٱلنَّاسُ كَٱلْفَرَاشِ ٱلْمَبْثُوثِ ٤
يَوۡمَ
يَكُونُ
ٱلنَّاسُ
كَٱلۡفَرَاشِ
ٱلۡمَبۡثُوثِ
٤
في ذلك اليوم يكون الناس في كثرتهم وتفرقهم وحركتهم كالفراش المنتشر، وهو الذي يتساقط في النار.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 101:4إلى 101:5

یہ تو تھا اس کھٹکھٹانے والی اور عظیم حادثے کا پہلا منظر۔ اس کو دیکھتے ہی دل ٹکڑے ٹکڑے ہوکر اڑنے لگتا ہے۔ انسان پر کپکپی طاری ہوجاتی ہے اور وہ یوں محسوس کرنے لگتا ہے کہ اس دنیا کی ہر وہ چیز جس کا سہارا وہ لے سکتا تھا ، اڑی اڑی سی جارہی ہے۔ وہ ہوا میں اس طرح اڑتی ہے جس طرح ذرے اڑ رہے ہوتے ہیں اور اچانک آخری اور مکمل خاتمہ سامنے آجاتا ہے۔