تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: القصص ٥١:٢٨

٥١:٢٨
۞ ولقد وصلنا لهم القول لعلهم يتذكرون ٥١
۞ وَلَقَدْ وَصَّلْنَا لَهُمُ ٱلْقَوْلَ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ ٥١
۞ وَلَقَدۡ
وَصَّلۡنَا
لَهُمُ
ٱلۡقَوۡلَ
لَعَلَّهُمۡ
يَتَذَكَّرُونَ
٥١
ولقد فصَّلنا وبيَّنا القرآن رحمة بقومك أيها الرسول؛ لعلهم يتذكرون، فيتعظوا به.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 28:49إلى 28:51

حق کے پیغام کو ماننے یا نہ ماننے کا جو اصل معیار ہے وہ یہ ہے کہ پیغام کو خود اس کے جوہر ذاتی کی بنیاد پر جانچا جائے۔ اگر وہ اپنی ذات میں برتر صداقت ہونا ثابت کررہا ہو تو یہی کافی ہے کہ اس کو مان لیا جائے۔ اس کے بعد ا س کو ماننے کے ليے کسی اور چیز کی ضرورت نہیں۔

صداقت کا جواب صداقت ہے۔ اگرآدمی صداقت کا انکار کرے اور اس کے جواب میں دوسری اعلیٰ تر صداقت نہ پیش کرسکے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ خواہش پرستی کی وجہ سے اس کا انکار کررہا ہے۔ جن لوگوں کا یہ حال ہو کہ وہ صداقت کو معقولیت کے ذریعہ رد نہ کرسکیں اور پھر بھی خواہش اور تعصب کے زیر اثر اس کو نہ مانیں وہ بدترین گمراہ لوگ ہیں۔ ایسے لوگ خدا کے یہاں ظالموں میں شمار ہوں گے۔