تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الواقعة ٤٨:٥٦

٤٨:٥٦
اواباونا الاولون ٤٨
أَوَءَابَآؤُنَا ٱلْأَوَّلُونَ ٤٨
أَوَءَابَآؤُنَا
ٱلۡأَوَّلُونَ
٤٨
أنُبعث نحن وآبناؤنا الأقدمون الذين صاروا ترابًا، قد تفرَّق في الأرض؟
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 56:47إلى 56:48

وکانو ................ الاولون (6 5: 8 4)

” اور کہتے تھے کیا جب ہم مرکر خاک ہوجائیں گے اور ہڈیوں کا پنجررہ جائے گا تو پھر اٹھا کھڑے کئے جائیں گے ؟ اور کیا ہمارے باپ دادا بھی اٹھائے جائیں گے جو گزر چکے ہیں۔ “ یہ لوگ یوں تھے۔ گویا یہ دنیا اب نہیں ہے۔ یہ لوگ میدان حشر میں کھڑے ہیں۔ دنیا ماضی پارینہ ہے اور یہ اب وہاں عذاب کے سامنے کھڑے ہیں یہ اس لئے کہ دنیا کا تو ایک مختصر وقت ہے۔ اتنا ہی جتنا پلک جھپکنے کا وقت لگتا ہے۔ اصل وقت ، حاضر وقت تو آخرت کا وقت ہے جہاں دوام ہے۔

سباق کلام اب پھر ہمیں دنیا میں لاتا ہے کہ ان کے سوال کا جواب دیا جائے۔