تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: آل عمران ٨٧:٣

٨٧:٣
اولايك جزاوهم ان عليهم لعنة الله والملايكة والناس اجمعين ٨٧
أُو۟لَـٰٓئِكَ جَزَآؤُهُمْ أَنَّ عَلَيْهِمْ لَعْنَةَ ٱللَّهِ وَٱلْمَلَـٰٓئِكَةِ وَٱلنَّاسِ أَجْمَعِينَ ٨٧
أُوْلَٰٓئِكَ
جَزَآؤُهُمۡ
أَنَّ
عَلَيۡهِمۡ
لَعۡنَةَ
ٱللَّهِ
وَٱلۡمَلَٰٓئِكَةِ
وَٱلنَّاسِ
أَجۡمَعِينَ
٨٧
أولئك الظالمون جزاؤهم أنَّ عليهم لعنة الله والملائكة والناسِ أجمعين، فهم مطرودون من رحمة الله.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 3:86إلى 3:88

یہ خوفناک دہمکی دیکھ کر ‘ ہر وہ دل جس میں ذرہ برابر بھی ایمان ہو وہ کانپ اٹھتا ہے اور جن کے دل میں دنیا وآخرت دونوں کے بارے میں ذمہ داری کا احساس ہو اور یہی مناسب سزا ہے اس شخص کی جسے نجات کا خوبصورت موقعہ ملے اور وہ اس سے فائدہ نہ اٹھائے بلکہ اس سے اعراض برتے ۔

لیکن اس کفر واعراض کے باوجود اسلام تو بہ کے دروازے کھلے رکھتا ہے ۔ اسلام کسی گمراہ کے لئے واپسی کے دروازے بند نہیں کرتا ‘ لیکن اسے ہدایت کی طرف آنے پر مجبور بھی کر تاکہ وہ دروازہ ہدایت پر خود دستک دے ۔ بلکہ اسلام اس کے قریب ہوتا ہے اور اس کے درمیان کوئی پردہ حائل نہیں ہونے دیتا ۔ اور یہاں تک کہ وہ اس پرامن محفوظ مقام تک آجائے اور عمل صالح شروع کردے تاکہ معلوم ہو کہ اس نے توبہ صحیح طرح کرلی ہے۔