تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: النجم ٣٥:٥٣

٣٥:٥٣
اعنده علم الغيب فهو يرى ٣٥
أَعِندَهُۥ عِلْمُ ٱلْغَيْبِ فَهُوَ يَرَىٰٓ ٣٥
أَعِندَهُۥ
عِلۡمُ
ٱلۡغَيۡبِ
فَهُوَ
يَرَىٰٓ
٣٥
أعند هذا الذي قطع عطاءه علم الغيب أنه سينفَد ما في يده حتى أمسك معروفه، فهو يرى ذلك عِيانًا؟ ليس الأمر كذلك، وإنما أمسك عن الصدقة والمعروف والبر والصلة; بخلا وشُحًّا.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 53:33إلى 53:42

بہت سے لوگ ہیں جو تھوڑا سا حق کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ پھر ان کے مفادات ان پر غالب آتے ہیں اور وہ دوبارہ اپنی پچھلی حالت کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنی غلط روش کی تاویل کے لیے طرح طرح کے خوبصورت عقیدے بنا لیتے ہیں۔ مگر یہ صرف ان کے جرم کو بڑھاتا ہے، کیوں کہ یہ غلطی پر سرکشی کے اضافہ کے ہم معنی ہے۔

پیغمبروں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے جو حقیقت کھولی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر آدمی کو لازماً اپنے عمل کا بدلہ پانا ہے، نہ کوئی شخص اپنے عمل کے انجام سے بچ سکتا اور نہ کوئی دوسرا شخص کسی کو بچانے والا بن سکتا۔ جو لوگ اس پیغمبرانہ چیتاونی سے متنبہ نہ ہوں، ان سے بڑا نادان خدا کی اس دنیا میں اور کوئی نہیں۔