تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: النمل ١:٢٧

١:٢٧
طس تلك ايات القران وكتاب مبين ١
طسٓ ۚ تِلْكَ ءَايَـٰتُ ٱلْقُرْءَانِ وَكِتَابٍۢ مُّبِينٍ ١
طسٓۚ
تِلۡكَ
ءَايَٰتُ
ٱلۡقُرۡءَانِ
وَكِتَابٖ
مُّبِينٍ
١
(طس) سبق الكلام على الحروف المقطَّعة في أول سورة البقرة. هذه آيات القرآن وهي آيات الكتاب العزيز بينة المعنى، واضحة الدلالة، على ما فيه من العلوم والحكم والشرائع. فالقرآن هو الكتاب، جمع الله له بين الاسمين.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

درس نمبر 071 تشریح آیات

1………تا……6

طس تلک ایت القرآن و کتاب مبین (1)

حروف مقطعات دراصل اس طرف متوجہ کرتے ہیں کہ یہ سورت اسی مواد پر مشتمل ہے جو ان حروف سے بنا ہے۔ پورا قرآن بھی اسی سے بنا ہے۔ یہ مواد عام عربی دانوں کے دسترس میں ہے لیکن وہ اس مواد سے ایسی کتاب تصنیف کرنے سے عاجز ہیں۔ باوجود بار بار کی تحدی اور چیلنج کے۔

یہاں کتاب سے مراد قرآن مجید ہی ہے ۔ یہاں قرآن مجید پر کتاب (خط) کا اطلاق اس لئے کیا گیا ہے کہ اس کتاب اور قریش کی جانب سے اس کے حوالے سے ردعمل اور حضرت سلیمان کے خط اور ملکہ سبا کی جانب سے اس کے بارے میں ردعمل کے درمیان مقابلہ کیا جائے ، حالانکہ سلیمان (علیہ السلام) اللہ کے بندوں میں سے ایک بندہ تھے۔

اس تمہید اور چیلنج کے بعد قرآن کریم کا ذکر اور اس کی تعریف یوں ہوتی ہے۔