تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: النازعات ٢٧:٧٩

٢٧:٧٩
اانتم اشد خلقا ام السماء بناها ٢٧
ءَأَنتُمْ أَشَدُّ خَلْقًا أَمِ ٱلسَّمَآءُ ۚ بَنَىٰهَا ٢٧
ءَأَنتُمۡ
أَشَدُّ
خَلۡقًا
أَمِ
ٱلسَّمَآءُۚ
بَنَىٰهَا
٢٧
أبَعْثُكم -أيها الناس- بعد الموت أشد في تقديركم أم خلق السماء؟ رفعها فوقكم كالبناء، وأعلى سقفها في الهواء لا تفاوت فيها ولا فطور، وأظلم ليلها بغروب شمسها، وأبرز نهارها بشروقها. والأرض بعد خلق السماء بسطها، وأودع فيها منافعها، وفجَّر فيها عيون الماء، وأنبت فيها ما يُرعى من النباتات، وأثبت فيها الجبال أوتادًا لها. خلق سبحانه كل هذه النعم منفعة لكم ولأنعامكم. إن إعادة خلقكم يوم القيامة أهون على الله من خلق هذه الأشياء، وكله على الله هين يسير.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

یہ ایسا استفہام ہے جس کا جواب ایک ہی ہے اور ناقابل انکار اور ناقابل بحث و مباحثہ ہے۔

ءانتم ................ السمائ (27:79) ” تم لوگوں کی تخلیق زیادہ سخت کام ہے یا آسمان کی “۔ یقینا آسمانوں کی تخلیق بہت بڑا اور مشکل کام ہے۔ اس میں کوئی کلام نہیں ہے۔ نہ بحث کی گنجائش ہے۔ لہٰذا تمہیں جو اللہ نے مختصر قوت دی ہے ، اس پر تمہیں اس قدر ناز کیوں ہے حالانکہ آسمان اور کائنات کی دوسری قوتیں تم سے قوی تر ہیں۔ یہ تو ہے اس سوال کا ایک پہلو ، لیکن اس کی ایک جہت اور بھی ہے ، وہ یہ کہ تم اپنے دوبارہ اٹھائے جانے کو ایک مشکل کام تصور کرتے ہو ، جبکہ آسمانوں کی تخلیق تمہاری تخلیق سے مشکل ہے ، حالانکہ حشر میں تمہاری تخلیق ابتدائی تخلیق نہ ہوگی بلکہ محض اعادہ اور جس ذات بابرکات نے آسمانوں اور جہانوں کی تخلیق کی ہے ، اس کے لئے تمہارا اعادہ زیادہ آسان ہے۔

آسمانوں کی تخلیق بلاریب ایک عظیم کام ہے۔

بنھا (27:79) ” اس نے اسے بنایا “۔ ہر عمارت قوت اور باہم سہارا لے کر قیام کی مظہرہوتی ہے۔ آسمانوں کا وسیع نظام بھی ایک عمارت کی طرح باہم بندھا ہوا ہے۔ اس کے ستارے اور سیارے ایک نظام میں بندھے ہوئے ہیں۔ کوئی چیز بھی اپنی جگہ سے نہیں ہلتی۔ نہ اپنے مدار سے نکلتی ہے ، نہ گرتی ہے اور ٹکراتی ہے۔ گویا یہ بالائی کائنات ایک وسیع عمارت ہے ، جس کے تمام اعضاء باہم متماسک ہیں۔