تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: النازعات ٤٣:٧٩

٤٣:٧٩
فيم انت من ذكراها ٤٣
فِيمَ أَنتَ مِن ذِكْرَىٰهَآ ٤٣
فِيمَ
أَنتَ
مِن
ذِكۡرَىٰهَآ
٤٣
يسألك المشركون أيها الرسول- استخفافا- عن وقت حلول الساعة التي تتوعدهم بها. لستَ في شيء مِن علمها، بل مرد ذلك إلى الله عز وجل، وإنما شأنك في أمر الساعة أن تحذر منها مَن يخافها. كأنهم يوم يرون قيام الساعة لم يلبثوا في الحياة الدنيا؛ لهول الساعة إلا ما بين الظهر إلى غروب الشمس، أو ما بين طلوع الشمس إلى نصف النهار.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

جواب یہ ہے۔

فیم انت من ذکرھا (43:79) ” تمہارا کیا کام ہے کہ اس کا وقت بتاﺅ“۔ یہ ایسا جواب ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی بہت بڑی عظیم بات ہوگی اور ایک عظیم حادثہ ہوگا اور ان لوگوں کا اس طرح سوال کرنا حماقت اور گھٹیا پن ہے۔ یہ بچگانہ سوال ہے اور اپنے حدود اور مقام سے آگے کی بات ہے۔ تو ان کو جواب دینے کے بجائے رسول اللہ کو جواب دیا جاتا ہے کہ ” تمہارا کیا کام کہ تم اس کا وقت بتاﺅ“۔ یہ تو اس سے بڑی چیز ہے کہ تم اس کے بارے میں پوچھو یا تم سے پوچھا جائے۔ اس کا وقت بتانا یا اس کا برپا کرنا میرے رب کا کام ہے ، میرا کام نہیں ہے۔