تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: النور ١:٢٤

١:٢٤
سورة انزلناها وفرضناها وانزلنا فيها ايات بينات لعلكم تذكرون ١
سُورَةٌ أَنزَلْنَـٰهَا وَفَرَضْنَـٰهَا وَأَنزَلْنَا فِيهَآ ءَايَـٰتٍۭ بَيِّنَـٰتٍۢ لَّعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ ١
سُورَةٌ
أَنزَلۡنَٰهَا
وَفَرَضۡنَٰهَا
وَأَنزَلۡنَا
فِيهَآ
ءَايَٰتِۭ
بَيِّنَٰتٖ
لَّعَلَّكُمۡ
تَذَكَّرُونَ
١
هذه سورة عظيمة من القرآن أنزلناها، وأوجبنا العمل بأحكامها، وأنزلنا فيها دلالات واضحات؛ لتتذكروا -أيها المؤمنون- بهذه الآيات البينات، وتعملوا بها.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

سورة انزلنھا۔۔۔۔۔۔۔ تذکرون

یہ پورے قرآن مجید میں اپنی نوعیت کا واحد مطلع کلام ہے۔ اس میں جو نیا لفظ ہے وہ فرضنھا کا ہے ‘ جہاں تک میں سمجھتا ہوں اس کا مطلب یہ ہے کہ اس سورة میں جو کچھ ہے اس کا اخذ کرنا اور اس پر عمل کرنا ضروری ہے۔ یعنی اس کے اندر مذکور آداب پر عمل کرنا بھی اسی طرح فرض ہے جس طرح حدود پر عمل کرنا لازمی ہے۔ یہ اخلاق و عادات نہایت ہی فطری ہیں۔ ان آداب اور اخلاق کو لوگ بعض ایسے عارضی حالات کی وجہ سے بھول جاتے ہیں جو انسان کو دھوکہ دے کر بدراہ کردیتے ہیں ‘ یہ آیات ایسے لوگوں کو یاد دہانی کرا کے راہ راست دکھاتی ہیں اور پھر ان کو راہ فطرت پر واپس لاتی ہیں جو بالکل واضح ہے۔

اس دو ٹوک تمہید کے بعد قانون حد زنا کا بیان شروع ہوتا ہے۔ اس فعل کو نہایت ہی قبیح گردانتے ہوئے یہ کہا جاتا ہے کہ زانی اور اسلامی سوسائٹی کے درمیان کوئی رابطہ نہیں رہتا۔