تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: النور ٢٢:٢٤

٢٢:٢٤
ولا ياتل اولو الفضل منكم والسعة ان يوتوا اولي القربى والمساكين والمهاجرين في سبيل الله وليعفوا وليصفحوا الا تحبون ان يغفر الله لكم والله غفور رحيم ٢٢
وَلَا يَأْتَلِ أُو۟لُوا۟ ٱلْفَضْلِ مِنكُمْ وَٱلسَّعَةِ أَن يُؤْتُوٓا۟ أُو۟لِى ٱلْقُرْبَىٰ وَٱلْمَسَـٰكِينَ وَٱلْمُهَـٰجِرِينَ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ ۖ وَلْيَعْفُوا۟ وَلْيَصْفَحُوٓا۟ ۗ أَلَا تُحِبُّونَ أَن يَغْفِرَ ٱللَّهُ لَكُمْ ۗ وَٱللَّهُ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌ ٢٢
وَلَا
يَأۡتَلِ
أُوْلُواْ
ٱلۡفَضۡلِ
مِنكُمۡ
وَٱلسَّعَةِ
أَن
يُؤۡتُوٓاْ
أُوْلِي
ٱلۡقُرۡبَىٰ
وَٱلۡمَسَٰكِينَ
وَٱلۡمُهَٰجِرِينَ
فِي
سَبِيلِ
ٱللَّهِۖ
وَلۡيَعۡفُواْ
وَلۡيَصۡفَحُوٓاْۗ
أَلَا
تُحِبُّونَ
أَن
يَغۡفِرَ
ٱللَّهُ
لَكُمۡۚ
وَٱللَّهُ
غَفُورٞ
رَّحِيمٌ
٢٢
ولا يحلف أهل الفضل في الدين والسَّعَة في المال على ترك صلة أقربائهم الفقراء والمحتاجين والمهاجرين، ومنعهم النفقة؛ بسبب ذنب فعلوه، ولْيتجاوزوا عن إساءتهم، ولا يعاقبوهم. ألا تحبون أن يتجاوز الله عنكم؟ فتجاوزوا عنهم. والله غفور لعباده، رحيم بهم. وفي هذا الحثُّ على العفو والصفح، ولو قوبل بالإساءة.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

حضرت عائشہ کے خلاف طوفان اٹھانے والوں میں ایک صاحب مسطح بن اُثاثہ تھے۔ وہ ایک مفلس مہاجر تھے اور حضرت ابوبکر کے دور کے رشتہ دار تھے۔ حضرت ابوبکر اعانت کے طورپر ان کو کچھ رقم دیا کرتے تھے۔ حضرت عائشہ ابوبکر کی صاحب زادی تھیں۔ قدرتی طورپر حضرت ابو بکر کو مسطح بن اثاثہ کے عمل سے تکلیف ہوئی۔ آپ نے قسم کھالی کہ وہ آئندہ مسطح کی کوئی مدد نہ کریںگے۔

اسلام میں محتاجوں کی مدد ان کی محتاجی کی بنیاد پر ہوتی ہے، نہ کہ کسی اور بنیاد پر۔ چنانچہ قرآن میں یہ حکم اترا کہ تم میں سے جو لوگ صاحب مال ہیں وہ ذاتی شکایت کی بنا پر بے مال لوگوں کی امداد بند نہ کریں۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ خداتم کو معاف کردے۔ اگر تم اپنے ليے خدا سے معافی کے امیدوار ہو تو تمھیں بھی دوسروں کے بارے میں معافی کا طریقہ اختیار کرنا چاہيے۔ یہ آیت سن کر حضرت ابوبکر نے کہا بَلَى وَاَللهِ، إنِّي لَأُحِبُّ أَنْ يَغْفِرَ اللهُ لِي (سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 303-4)۔ ہاں، خدا کی قسم، میں پسند کرتا ہوں کہ اللہ مجھے معاف کردے۔ اور دوبارہ مسطح کی امداد جاری کردی۔

مومن کی نظر میں سب سے زیادہ اہمیت خدا کے حکم کی ہوتی ہے۔ خدا کا حکم سامنے آتے ہی وہ فوراً جھک جاتا ہے، خواہ خدا کا حکم اس کی خواہش کے سراسر خلاف کیوں نہ ہو۔