تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الرحمن ٣٩:٥٥

٣٩:٥٥
فيوميذ لا يسال عن ذنبه انس ولا جان ٣٩
فَيَوْمَئِذٍۢ لَّا يُسْـَٔلُ عَن ذَنۢبِهِۦٓ إِنسٌۭ وَلَا جَآنٌّۭ ٣٩
فَيَوۡمَئِذٖ
لَّا
يُسۡـَٔلُ
عَن
ذَنۢبِهِۦٓ
إِنسٞ
وَلَا
جَآنّٞ
٣٩
ففي ذلك اليوم لا تسأل الملائكة المجرمين من الإنس والجن عن ذنوبهم. فبأي نِعَم ربكما -أيها الثقلان- تكذِّبان؟
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 55:39إلى 55:40

فیومئذ ................ ولاجان فبای الا ربکما تکذبن (0 4) (44: 93۔ 0 4)

” اسی روز کسی انسان اور کسی جن سے اس کا گناہ پوچھنے کی ضرورت نہ ہوگی ، پھر (دیکھ لیا جائے گا کہ) تم دونوں گروہ اپنے رب کے کن کن احسانات کا انکار کرتے ہو۔ “

قیامت کے مقامات میں سے یہ بھی ایک مقام ہوگا اور اس میں مختلف مقامات ہوں گے۔ بعض جگہ بندوں سے ان کے کام کے بارے میں پوچھ گچھ ہوگی۔ بعض مقامات میں کسی سے کوئی پوچھ گچھ نہ ہوگی۔ بعض جگہ مجرم اپنے بارے میں جھگڑ رہے ہوں گے اور اپنے کرتوتوں کی ذمہ داری شرکاء پر ڈالیں گے۔ بعض مقامات ایسے ہوں گے کہ وہاں بولنے کی کوئی اجازت نہ ہوگی۔ نہ جھگڑنے کی اجازت ہوگی۔ قیامت کا دن طویل ہوگا اور اس میں طرح طرح کے موقف ہوں گے۔

ایک موقف یہ ہوگا کہ اس میں کسی سے کچھ بات نہ پوچھی جائے گی جبکہ لوگوں کی صفات اور اعمال بالکل واضح ہوں گے اور ان کے چہرے سیاہ ہوں گے اور طے ہوگا کہ جہنمی ہے اور بعض کے چہرے سفید ہوں گے اور طے ہوگا کہ گرین چینل والا ہے اور یہ صفات ان کے چہروں اور حالات سے عیاں ہوں گی۔ کیا اس وقف کا کوئی انکار کرسکتا ہے۔