تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الصافات ١٢٤:٣٧

١٢٤:٣٧
اذ قال لقومه الا تتقون ١٢٤
إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِۦٓ أَلَا تَتَّقُونَ ١٢٤
إِذۡ
قَالَ
لِقَوۡمِهِۦٓ
أَلَا
تَتَّقُونَ
١٢٤
وإن عبدنا إلياس لمن الذين أكرمناهم بالنبوة والرسالة، إذ قال لقومه من بني إسرائيل: اتقوا الله وحده وخافوه، ولا تشركوا معه غيره، كيف تعبدون صنمًا، وتتركون عبادة الله أحسن الخالقين، وهو ربكم الذي خلقكم، وخلق آباءكم الماضين قبلكم؟
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 37:123إلى 37:132

اس کے بعد ایک جھلک حضرت الیاس (علیہ السلام) کی۔ یہ کون تھے ؟ راجح بات یہ ہے کہ عہد نامہ قدیم میں جو پیغمبر ابلیا کے نام سے مذکور ہیں ، وہی الیاس ہیں۔ یہ شام کے لوگوں کی طرف بھیجے گئے تھے۔ یہ لوگ ایک بغل نامی بت کے پرستار تھے۔ بعلبک آج تک اسی بت کے آثار میں سے ہے۔ بعل کے پرستار یہاں رہتے ہوں گے۔

وان الیاس لمن ۔۔۔۔۔۔ عبادنا المؤمنین (123 – 132)

حضرت الیاس نے اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی اور اس بات پر تنقید کی کہ تم بعل کی عبادت کرتے ہو اور اس ذات کو چھوڑتے ہو جو احسن الخالقین ہے۔ تمہارا بھی رب ہے ، اور تمہارے آباء اجداد کا بھی رب ہے ، بعینہ اسی طرح جس طرح حضرت ابراہیم نے اپنی قوم اور باپ کی بت پرستی پر تنقید کی تھی۔ جس طرح پر رسول اپنی اپنی قوم کی بت پرستی پر احتساب کرتا آیا تھا۔

نتیجہ یہ تھا کہ قوم کی تکذیب کی۔ اللہ تعالیٰ مافیہ فرماتا ہے کہ ان کو گرفتار کرکے حاضر کیا جائے گا۔ اور ان کو وہی سزا ملے گی جو ہمیشہ مکذبین کو ملتی ہے۔ ہاں ان میں سے اہل ایمان اور اللہ کے خالص بندے مستثنیٰ ہوں گے۔

حضرت الیاس (علیہ السلام) کے ساتھ یہ محفل بھی اس بات پر ختم ہوتی ہے کہ اللہ کی طرف سے ان پر سلام آتا ہے ان کی بھی تکریم ہوتی ہے ۔ اور اہل ایمان اور اہل احسان کو اللہ ایسی ہی جزا دیتے ہیں۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) کی سیرت یہاں پہلی مرتبہ

آتی ہے مگر نہایت اختصار کے ساتھ۔ ہم بھی اختصار کے ساتھ اسی پر اکتفاء کرتے ہیں ۔ البتہ یہاں ایک فنی نکتہ بیان کرنا ضروری ہے

سلم علی ال یاسین (37: 130) ” سلام ہے الیاس پر “۔ یہاں الیاس (علیہ السلام) کے نام کے ساتھ ” ین “ کا فاصلہ لگا دیا گیا تاکہ عبادت کا صوتی حسن دوبالا ہوجائے ۔ اور یہ قرآن کا مخصوص انداز بیان ہے کہ سورت کی آیات کا خاتمہ تقریبا صوتی ہم آہنگی کے ساتھ ہوتا ہے اور اس انداز تعبیر کا سامع پر بہت اثر ہوتا ہے۔