تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الصافات ١٣٥:٣٧

١٣٥:٣٧
الا عجوزا في الغابرين ١٣٥
إِلَّا عَجُوزًۭا فِى ٱلْغَـٰبِرِينَ ١٣٥
إِلَّا
عَجُوزٗا
فِي
ٱلۡغَٰبِرِينَ
١٣٥
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 37:133إلى 37:138

حضرت لوط حضرت ابراہیم کے بھتیجے تھے۔ وہ بحر مردار کے علاقہ میں سدوم اور عمورہ کی ہدایت کےلیے بھیجے گئے جن کے باشندے غیر اللہ کی پرستش میں مبتلا تھے۔ مگر انھوں نے ہدایت قبول نہیں کی۔ آخر کار ان پر خدا کی آفت آئی اور حضرت لوط اور ان کے چند ساتھیوں کو چھوڑ کر سب کے سب ہلاک کردئے گئے۔

قوم لوط کی بستیوں کے کھنڈر بحر مردار کے کنارے موجود تھے اور قریش کے لوگ جب تجارت کےلیے شام اور فلسطین جاتے تو وہ راستہ میں ان برباد شدہ بستیوں کو دیکھتے۔ مگر انسان کا حال یہ ہے کہ وہ صرف اسی حادثہ کو جانتا ہے جو خود اس کے اپنے اوپر پڑے۔ دوسروں کے انجام سے وہ کبھی سبق نہیں لیتا۔