تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الصافات ١٥:٣٧

١٥:٣٧
وقالوا ان هاذا الا سحر مبين ١٥
وَقَالُوٓا۟ إِنْ هَـٰذَآ إِلَّا سِحْرٌۭ مُّبِينٌ ١٥
وَقَالُوٓاْ
إِنۡ
هَٰذَآ
إِلَّا
سِحۡرٞ
مُّبِينٌ
١٥
وقالوا: ما هذا الذي جئت به إلا سحر ظاهر بيِّن. أإذا متنا وصِرْنا ترابًا وعظامًا بالية أإنا لمبعوثون من قبورنا أحياء، أو يُبعث آباؤنا الذين مضوا من قبلنا؟
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 37:6إلى 37:18

زمین و آسمان کی صورت میں جو کائنات ہمارے مشاہدہ میںآتی ہے وہ اتنی پیچیدہ اور اتنی عظیم ہے کہ اس کے بعد انسانوں کو دوسری دنیا میں پیدا کرنا مقابلۃً ایک چھوٹا کام نظر آنے لگتاہے۔ جس خالق کی قوتِ تخلیق کا عظیم تر نمونہ ہمارے سامنے موجود ہے اسی خالق سے اس سے چھوٹی تخلیق نا ممکن یا مستبعد کیوں۔

انسانی جسم کا تجزیہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ تمام تر زمینی اجزاء کا ایک مجموعہ ہے۔ زمین میں پائے جانے والے مادے (پانی، کیلشیم، لوہا، سوڈیم، ٹنگسٹین وغیرہ) کی ترکیب سے انسان بنا ہے۔ یہ تمام اجزاء ہماری دنیا میں بہت افراط کے ساتھ پائے جاتے ہیں۔ پھر جن اجزاء کی ترکیب سے خالق نے ایک بار انسان کو بنا کر کھڑا کردیا انھیں اجزاء کی ترکیب سے وہ دوبارہ کیوں ایسا نہیں کرسکتا۔