تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الصافات ١٨١:٣٧

١٨١:٣٧
وسلام على المرسلين ١٨١
وَسَلَـٰمٌ عَلَى ٱلْمُرْسَلِينَ ١٨١
وَسَلَٰمٌ
عَلَى
ٱلۡمُرۡسَلِينَ
١٨١
وتحية الله الدائمة وثناؤه وأمانه لجميع المرسلين.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 37:176إلى 37:182

پیغمبر لوگوں سے کہتے تھے کہ اگرتم نے میری بات نہ مانی تو تمھارے اوپر خدا کا عذاب آجائے گا۔ مگر لوگ اس بات کو بے حقیقت سمجھتے رہے اور اس کا مذاق اڑاتے رہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کا پیغمبر انھیں اس سے بہت کم نظر آتا تھا کہ اس کی بات نہ ماننے سے ان پر خدا کا عذاب ٹوٹ پڑے۔

تاہم ان کے تمسخر اور استہزاء کے باوجود ایسا نہیں ہوا کہ فوراً ان کے اوپر عذاب آجائے کیونکہ عذابِ الٰہی کے اترنے کےلیے حجت کی تکمیل ضروری ہے۔ اس ليے پیغمبروں کو حکم ہوتا ہے کہ وہ صبر اور اعراض کرتے رہیں، یہاںتک کہ علم الٰہی کے مطابق مقررہ مدت پوری ہوجائے۔