تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الصافات ٣٥:٣٧

٣٥:٣٧
انهم كانوا اذا قيل لهم لا الاه الا الله يستكبرون ٣٥
إِنَّهُمْ كَانُوٓا۟ إِذَا قِيلَ لَهُمْ لَآ إِلَـٰهَ إِلَّا ٱللَّهُ يَسْتَكْبِرُونَ ٣٥
إِنَّهُمۡ
كَانُوٓاْ
إِذَا
قِيلَ
لَهُمۡ
لَآ
إِلَٰهَ
إِلَّا
ٱللَّهُ
يَسۡتَكۡبِرُونَ
٣٥
إن أولئك المشركين كانوا في الدنيا إذا قيل لهم: لا إله إلا الله، ودعوا إليها، وأُمروا بترك ما ينافيها، يستكبرون عنها وعلى من جاء بها.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 37:34إلى 37:39

’’جب ان سے کہا جاتا کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں تو وہ گھمنڈ کرتے تھے‘‘— اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ خدا کے مقابلے میں گھمنڈ کرتے تھے۔ ایسا کوئی بھی نہیں کرتا۔ خدا کی عظمت اس سے زیادہ ہے کہ کوئی اس کے مقابلہ میں بڑا بننے کی جرأت کرے۔ ان کا گھمنڈ دراصل خداکے پیغام بر کے مقابلہ میں تھا، نہ کہ خود خدا کے مقابلہ میں۔

پیغمبر کے پیغام توحید کی زد ان اکابر پر پڑتی تھی جن کے نام پر وہ اپنے مشرکانہ اعمال میں مبتلا تھے۔ اب ایک طرف پیغمبر ہوتا اور دوسری طرف ان کے مفروضہ اکابر ۔ چوں کہ پیغمبر بظاہر انھیں اپنے اكابر سے كم دكھائي ديتا تھا، اس ليے وه پيغمبر كو چھوٹا سمجھ كر نظر انداز كرديتے۔ وه اپنے مفروضہ اکابر کے ساتھ وابستہ رہ کر سمجھتے کہ وہ بڑوں کے ساتھ وابستہ ہیں۔ دلیل کا زور بلاشبہ پیغمبر کی طرف ہوتا تھا۔ مگر ظاہری عظمت انھیں اپنے بڑوں میں دکھائی دیتی تھی۔ اور تاریخ بتاتی ہے کہ ظاہری عظمت کے مقابلہ میں دلیل کی طاقت ہمیشہ بے اثر ثابت ہوئی ہے۔