تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الصافات ٩٨:٣٧

٩٨:٣٧
فارادوا به كيدا فجعلناهم الاسفلين ٩٨
فَأَرَادُوا۟ بِهِۦ كَيْدًۭا فَجَعَلْنَـٰهُمُ ٱلْأَسْفَلِينَ ٩٨
فَأَرَادُواْ
بِهِۦ
كَيۡدٗا
فَجَعَلۡنَٰهُمُ
ٱلۡأَسۡفَلِينَ
٩٨
فأراد قوم إبراهيم به كيدًا لإهلاكه، فجعلناهم المقهورين المغلوبين، وردَّ الله كيدهم في نحورهم، وجعل النار على إبراهيم بردًا وسلامًا.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

فارادوا بہ کیدا فجعلنھم الاسفلین (98) ” “۔ جب اللہ نہ چاہے تو ضعیف بندوں کی تدابیر کیا کرسکتی ہیں اور اللہ کے معاملے میں ضعیف اور حقیر بندے کر بھی کیا سکتے ہیں۔ دنیا کے سرکش ، جبار ، حکمران ، ڈکٹیٹر اور ان کے اعوان و انصار اللہ کے مقابلے میں ہیچ ہوتے ہیں ۔ جب اللہ کا فضل اللہ کے بندوں کے شامل حال ہو۔

اب قصہ ابراہیم (علیہ السلام) کی دوسری کڑی شروع ہوتی ہے۔ اپنے باپ اور اپنی قوم کے ساتھ آپ کا تنازعہ ختم ہوگیا۔ انہوں نے ارادہ کیا کہ ایک خود ساختہ حجیم (آگ) میں آپ کو جلا دیں۔ اور اللہ نے ارادہ کیا کہ وہ گھاٹے میں رہیں ۔ اور حضرت ابراہیم ان کی سازش سے بچ گئے۔ یہاں آکر حضرت ابراہیم نے اپنی سابقہ زندگی کو خیر باد کہا اور زندگی کے نئے مرحلے کا آغاز کیا۔ سابقہ زندگی کا دفتر لپیٹ لیا گیا اور زندگی کے ایک نیئے باپ کا آغاز ہوگیا۔