تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الشمس ١٢:٩١

١٢:٩١
اذ انبعث اشقاها ١٢
إِذِ ٱنۢبَعَثَ أَشْقَىٰهَا ١٢
إِذِ
ٱنۢبَعَثَ
أَشۡقَىٰهَا
١٢
كذَّبت ثمود نبيها ببلوغها الغاية في العصيان، إذ نهض أكثر القبيلة شقاوة لعقر الناقة، فقال لهم رسول الله صالح عليه السلام: احذروا أن تمسوا الناقة بسوء؛ فإنها آية أرسلها الله إليكم، تدل على صدق نبيكم، واحذروا أن تعتدوا على سقيها، فإن لها شِرْب يوم ولكم شِرْب يوم معلوم. فشق عليهم ذلك، فكذبوه فيما توعَّدهم به فنحروها، فأطبق عليهم ربهم العقوبة بجرمهم، فجعلها عليهم على السواء فلم يُفْلِت منهم أحد. ولا يخاف- جلت قدرته- تبعة ما أنزله بهم من شديد العقاب.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 84:1إلى 94:8

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حقیقت جاننے کے لیے تڑپ رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حقیقت کا علم دے کر آپ کی تلاش کو معرفت میں تبدیل کردیا۔ حقائق کی معرفت کے لیے آپ کا سینہ کھل گیا۔ پھر آپ نے مکہ میں توحید کی دعوت شروع کی تو بظاہر سخت مخالفتوں کا سامنا پیش آیا۔ مگر انہیں مخالفتوں کے ذریعہ یہ ہوا کہ آپ کا چرچا سارے ملک میں پھیل گیا۔

یہی موجودہ دنیا کے لیے اللہ کا قانون ہے۔ یہاں ابتداء ً انسان کے ساتھ عسر کے حالات پیش آتے ہیں۔ لیکن اگر وہ صبر کے ساتھ اس پر جما رہے تو یہ عسر اس کے لیے نئے یسر تک پہنچنے کا زینہ بن جاتا ہے۔ اس لیے انسان کو چاہيے کہ وہ ہمیشہ اللہ کی طرف دیکھے، وہ اپنی استطاعت کے بقدر اپنی جدوجہد کو برابر جاری رکھے۔