تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الشرح ٤:٩٤

٤:٩٤
ورفعنا لك ذكرك ٤
وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ ٤
وَرَفَعۡنَا
لَكَ
ذِكۡرَكَ
٤
ألم نوسع -أيها النبي- لك صدرك لشرائع الدين، والدعوة إلى الله، والاتصاف بمكارم الأخلاق، وحططنا عنك بذلك حِمْلك الذي أثقل ظهرك، وجعلناك -بما أنعمنا عليك من المكارم- في منزلة رفيعة عالية؟
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

ورفعنا ................ ذکرک ( 4:94) ” اور تمہاری خاطر تمہارے ذکر کا آواز بلند کردیا “۔ آپ کا ذکر عالم بالا میں بلند ہونے لگا ، پوری زمین میں آپ کی دعوت کا غلغلہ بلندہوگیا۔ اس پوری کائنات میں آپ کا نام بلند ہوگیا اور پھر کلمہ طیبہ میں آپ کا نام اللہ کے نام کے ساتھ جوڑ دیا گیا۔

لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ کہ جب بھی کوئی کلمہ پڑھے گا آپ کا نام بلند ہوگا ، اس کے بعد آخر اور کیا مقام و مرتبہ ہوسکتا ہے ؟ یہ تو آپ کا ایک منفرد مقام ہے اور تمام مخلوقات کے مقابلے میں آپ کے لئے مخصوص ہے۔

ہم نے آپ کا ذکر لوح محفوظ میں کردیا کہ زمانے گزر جائیں گے ، نسلیں جائیں گی اور آئیں گی اور کروڑوں ہونٹ آپ کے اسم گرامی کو ادا کرتے رہیں گے۔ صلوٰة وسلام بھیجتے رہیں گے۔ گہری محبت اور عظمت واحترام کا اظہار کرتے رہیں گے۔ آپ کا ذکر یوں بھی بلند ہوا کہ آپ کا نام اسلامی نظام زندگی اور شریعت محمدی کے ساتھ نتھی ہوگیا ۔ صرف آپ کا انتخاب ہی رفع ذکر کا باعث بنا۔ یہ وہ مقام تھا جو نہ کسی کو کبھی نصیب ہوا اور نہ ہوگا۔ لہٰذا اب مشقت کہاں ، تھکاوٹ کہاں ، یہ دین اس قدر عظیم دین ہے کہ اس کے ہوتے ہوئے ہر قسم کی مشقت اور تھکاوٹ کا احساس ہی جاتا رہتا ہے۔

لیکن اس کے باوجود اللہ اپنے محبوب مختار کے ساتھ مزید مہربانیاں فرماتا ہے ، آپ کی کلفتیں مزید دور فرماتا ہے ، آپ کو خوش اور مطمئن فرماتا ہے اور یہ اطلاع دیتا ہے کہ بہت بڑی آسانیاں اور فراخیاں آپ کے انتظار میں ہیں۔