تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الشعراء ١٠٦:٢٦

١٠٦:٢٦
اذ قال لهم اخوهم نوح الا تتقون ١٠٦
إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ نُوحٌ أَلَا تَتَّقُونَ ١٠٦
إِذۡ
قَالَ
لَهُمۡ
أَخُوهُمۡ
نُوحٌ
أَلَا
تَتَّقُونَ
١٠٦
كَذَّبت قوم نوح رسالة نبيهم، فكانوا بهذا مكذبين لجميع الرسل؛ لأن كل رسول يأمر بتصديق جميع الرسل. إذ قال لهم أخوهم نوح: ألا تخشون الله بترك عبادة غيره؟ إني لكم رسول أمين فيما أبلغكم، فاجعلوا الإيمان وقاية لكم من عذاب الله وأطيعوني فيما آمركم به من عبادته وحده. وما أطلب منكم أجرًا على تبليغ الرسالة، ما أجري إلا على رب العالمين، المتصرف في خلقه، فاحذروا عقابه، وأطيعوني بامتثال أوامره، واجتناب نواهيه.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 26:90إلى 26:115

حضرت نوح کی قوم نے ان کو جھٹلایا۔ حالاں کہ ان کی دعوت میں دلیل کا وزن پوری طرح موجود تھا۔ اسی کے ساتھ ان کی سیرت ان کی صداقت کی تصدیق کررہی تھی۔ حضرت نوح کے بارے میں ان کی قوم کے لوگ جانتے تھے کہ وہ ایک سچے اور امانت دار آدمی ہیں۔ وہ جانتے تھے کہ حضرت نوح جو دعوت دے رہے ہیں اس سے ان کا کوئی ذاتی مفاد وابستہ نہیں۔ یہ خصوصیات حضرت نوح کو سنجیدہ ثابت کرنے کے ليے کافی تھیں۔ اور جو آدمی مخلوق کے بارے میں سنجیدہ ہو، وہ خالق کے بارہ میں غیر سنجیدہ نہیں ہوسکتا۔

حضرت نوح کی قوم نے آپ کی دعوت کو ماننے سے انکار کردیا۔ حالاں کہ اس انکار کے ليے ان کے پاس غیر متعلق باتوں کے سوا کوئی چیز موجود نہ تھی۔ کسی دعوت کو رد کرنے کے ليے یہ کہنا کہ اس کاساتھ دینے والے معمولی لوگ ہیں یہ دعوت کی تردید نہیں بلکہ خود اپنی تردید ہے۔ کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی دلیل کے اعتبار سے اس دعوت کے حق میں کچھ کہنے کی گنجائش نہیں پاتا، تاہم وہ صرف اس ليے اس کا ساتھ دینا نہیں چاہتا کہ اس میں معمولی قسم کے لوگ جمع ہیں۔ اس کو یہ امید نہیں کہ اس کے حلقہ میں شامل ہونے کے بعد اس کو کوئی بڑا مقام حاصل ہوسکے گا۔