تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الشعراء ٦:٢٦

٦:٢٦
فقد كذبوا فسياتيهم انباء ما كانوا به يستهزيون ٦
فَقَدْ كَذَّبُوا۟ فَسَيَأْتِيهِمْ أَنۢبَـٰٓؤُا۟ مَا كَانُوا۟ بِهِۦ يَسْتَهْزِءُونَ ٦
فَقَدۡ
كَذَّبُواْ
فَسَيَأۡتِيهِمۡ
أَنۢبَٰٓؤُاْ
مَا
كَانُواْ
بِهِۦ
يَسۡتَهۡزِءُونَ
٦
فقد كذَّبوا بالقرآن واستهزؤوا به، فسيأتيهم أخبار الأمر الذي كانوا يستهزئون به ويسخرون منه، وسيحلُّ بهم العذاب جزاء تمردهم على ربهم.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

فقد ……یستھزء ون (6)

اور یہ تہدید نہایت خفیہ اور مجمل ہے اور عذاب مجہول ہے۔ یہ لوگ چونکہ ان دھمکیوں کو ایک مذاق سمجھنے تھے ، اس لئے اللہ نے دھمکی کا انداز بیان بھی استہزائیہ کردیا۔

فسیاتیھم انبواما کانوا بہ یستھزون (26 : 6) ” عنقریب ان کو اس چیز کی حقیقت معلوم ہوجائے گی جس کا یہ مذاق اڑاتے رہے ہیں۔ “ یعنی اس عذاب کی خبریں ان تک پہنچ جائیں گی۔ جس کا یہ مذاق اڑاتے ہیں۔ ان لوگوں تک اس عذاب کی صرف خبریں ہی نہ پہنچیں گی بلکہ یہ لوگ عذاب چکھیں گے بھی اور یہ بذات خود خبر بن جائیں گے۔ اور ان پر جو مصیبت آئے گی لوگ گلی کوچوں میں اس کی داستانیں ایک دوسرے کو سناتے رہیں گے۔ یہ چونکہ مذاق اڑاتے تھے ، اس لئے اس تہدید میں بھی مذاقیہ جواب دیا گیا۔ لیکن یہ مذاق تہدید سے بھرا ہوا ہے۔

یہ لوگ ایک خارق عادت طبیعی معجزے کا مطالبہ کرتے ہیں اور اللہ کی ان روشن اور روشن اور چمک دار آیات و معجزات کا نوٹس نہیں لیتے جو ان کے اردگرد پھیلی ہوئی ہیں اور ان آیات و نشانات کے ہوتے ہوئے کسی قلب مفتوح اور کسی حساس بصیرت کو تو مزید کسی دلیل اور برہان کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ اس کائنات کا صفحہ اس قدر عجیب ہے کہ انسانی دل و دماغ اس کو دیکھ کر مطمئن ہوجاتا ہے۔