تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: التغابن ٤:٦٤

٤:٦٤
يعلم ما في السماوات والارض ويعلم ما تسرون وما تعلنون والله عليم بذات الصدور ٤
يَعْلَمُ مَا فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَيَعْلَمُ مَا تُسِرُّونَ وَمَا تُعْلِنُونَ ۚ وَٱللَّهُ عَلِيمٌۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ ٤
يَعۡلَمُ
مَا
فِي
ٱلسَّمَٰوَٰتِ
وَٱلۡأَرۡضِ
وَيَعۡلَمُ
مَا
تُسِرُّونَ
وَمَا
تُعۡلِنُونَۚ
وَٱللَّهُ
عَلِيمُۢ
بِذَاتِ
ٱلصُّدُورِ
٤
يعلم سبحانه وتعالى كل ما في السموات والأرض، ويعلم ما تخفونه -أيها الناس- فيما بينكم وما تظهرونه. والله عليم بما تضمره الصدور وما تخفيه النفوس.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

یعلم مافی ............................................ الصدور (46 : 4) ” زمین اور آسمانوں کی ہر چیز کا اسے علم ہے ، جو کچھ تم چھپاتے ہو ، اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو ، سب اس کو معلوم ہے ، اور وہ دلوں کا حال تک جانتا ہے “۔

اس حقیقت کا ایک مومن کے دل میں بیٹھنا ، اسے معرفت رب عطا کرتا ہے۔ اس طرح اپنے رب کی معرفت حاصل ہونے کے بعد اس کے آفاقی اور کائناتی ایمان کا یہ پہلو بہت مضبوط ہوجاتا ہے۔ وہ یہ شعور رکھتا ہے کہ وہ اللہ کی نظروں میں ہے۔ کوئی ایسا راز نہیں ہے جو اس پر مخفی ہو۔ اس کے ضمیر میں کوئی گہری سوچ بھی ایسی نہیں ہے جس سے اللہ باخبر نہ ہو۔

یہ تین آیات ہی انسان کے لئے اس قدر رہنمائی فراہم کردیتی ہیں کہ انسان اپنی حقیقت کو سمجھے ، اس کائنات کو سمجھے اور اس کائنات اور اپنے خالق کی ساتھ اپنا تعلق جوڑے۔ اللہ سے ڈرے۔ ہر حرکت اور ہر رخ میں۔

اب ہم آتے ہیں اس سورت کے دوسرے پیراگراف کی طرف۔ اس میں ان اقوام ماضیہ کی طرف اشارہ ہے جنہوں نے رسولوں کی تکذیب کی۔ جن کا بڑا اعتراض یہ تھا کہ ایک بشر کو کس طرح رسول بنایا گیا ؟ مشرکین مکہ بھی یہی سوال دہراتے تھے اور اسی وجہ سے حضور اکرم ﷺ اور آپ کی تعلیمات کی تکذیب کرتے تھے۔