تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: التكوير ٢٢:٨١

٢٢:٨١
وما صاحبكم بمجنون ٢٢
وَمَا صَاحِبُكُم بِمَجْنُونٍۢ ٢٢
وَمَا
صَاحِبُكُم
بِمَجۡنُونٖ
٢٢
وما محمد الذي تعرفونه بمجنون، ولقد رأى محمد صلى الله عليه وسلم جبريل الذي يأتيه بالرسالة على صورته الحقيقية التي خلقه الله عليها في الأفق العظيم من ناحية المشرق بـ «مكة» ، وهي الرؤية الأولى الواقعة بـ «غار حراء» . وما محمد صلى الله عليه وسلم ببخيل في تبليغ الوحي. وما هذا القرآن بقول شيطان رجيم، مطرود من رحمة الله، ولكنه كلام الله ووحيه.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 81:1إلى 81:29

زمین پر رات دن کا آنا اور انسان کے مشاہدہ میں ستاروں کے مقامات کا بدلنا زمین کی محوری گردش کی بنا پر ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے ان الفاظ کا مطلب یہ ہوگا کہ زمین کی محوری گردش کا نظام اس بات پر گواہ ہے کہ محمد اللہ کے رسول ہیں اور قرآن خدا کا کلام جو فرشتہ کے ذریعہ ان پر اترا ہے۔

زمین کی محوری گردش اس کائنات کا انتہائی نادر اور انتہائی عظیم واقعہ ہے۔ یہ واقعہ گویا ایک ماڈل ہے جو وحی کے معاملہ کو ہمارے لیے قابل فہم بناتا ہے۔ اگر یہ تصور کیجيے کہ زمین اپنے محور پر گردش کرتی ہوئی وسیع خلا میں سورج کے گرد گھوم رہی ہے تو ایسا محسوس ہوگا گویار یموٹ کنٹرول کا کوئی طاقت ور نظام ہے جو اس کو انتہائی صحت کے ساتھ کنٹرول کررہا ہے۔ فرشتہ کے ذریعہ ایک انسان اور خدا کے درمیان ربط قائم ہونا بھی اسی قسم کا ایک اور واقعہ ہے۔ پہلا واقعہ تمثیل کے روپ میں دوسرے واقعہ کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔