تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الزخرف ٨٨:٤٣

٨٨:٤٣
وقيله يا رب ان هاولاء قوم لا يومنون ٨٨
وَقِيلِهِۦ يَـٰرَبِّ إِنَّ هَـٰٓؤُلَآءِ قَوْمٌۭ لَّا يُؤْمِنُونَ ٨٨
وَقِيلِهِۦ
يَٰرَبِّ
إِنَّ
هَٰٓؤُلَآءِ
قَوۡمٞ
لَّا
يُؤۡمِنُونَ
٨٨
وقال محمد صلى الله عليه وسلم شاكيًا إلى ربه قومه الذين كذَّبوه: يا ربِّ إن هؤلاء قوم لا يؤمنون بك وبما أرسلتني به إليهم. فأمره الله بالإعراض عنهم وعن أذاهم، وتركهم بسبب كفرهم وعنادهم، ولا يَبْدُر منك -أيها الرسول- إلا السلام لهم الذي يقوله أولو الألباب والبصائر للجاهلين، فهم لا يسافهونهم ولا يعاملونهم بمثل أعمالهم السيئة، فسوف يعلمون ما يلقَوْنه من البلاء والنكال. وفي هذا تهديد ووعيد شديد لهؤلاء الكافرين المعاندين وأمثالهم.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 43:88إلى 43:89

آیت نمبر 88 تا 89

اس انداز تعبیر سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ فریاد دور رس ہے ، اس کے گہرے نتائج نکلنے والے ہیں ، اسے سن لیا گیا ، اور عالم بالا اس کے نتیجے میں کچھ عظیم اقدامات کر رہا ہے۔ لہٰذا اے نبی ﷺ آپ ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیں اور ان کی کاروائیوں اور ریشہ دوانیوں کی کوئی پرواہ نہ کریں ، مطمئن رہیں ، نہایت امن سلامتی اور شرافت کے ساتھ اپنی راہ پر چلتے رہیں ۔ اس میں بھی درپردہ ایمان نہ لانے والوں کو سخت دھمکی دی جارہی ہے۔ اس دن کے سلسلے میں جب سب چھپے ظاہر ہوں گے۔ “ اے نبی ﷺ ان سے درگزر کرو اور کہہ دو سلام ہے تمہیں ، عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا ”۔

٭٭٭٭٭٭