تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: فاطر ٣٢:٣٥

٣٢:٣٥
ثم اورثنا الكتاب الذين اصطفينا من عبادنا فمنهم ظالم لنفسه ومنهم مقتصد ومنهم سابق بالخيرات باذن الله ذالك هو الفضل الكبير ٣٢
ثُمَّ أَوْرَثْنَا ٱلْكِتَـٰبَ ٱلَّذِينَ ٱصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا ۖ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌۭ لِّنَفْسِهِۦ وَمِنْهُم مُّقْتَصِدٌۭ وَمِنْهُمْ سَابِقٌۢ بِٱلْخَيْرَٰتِ بِإِذْنِ ٱللَّهِ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ ٱلْفَضْلُ ٱلْكَبِيرُ ٣٢
ثُمَّ
أَوۡرَثۡنَا
ٱلۡكِتَٰبَ
ٱلَّذِينَ
ٱصۡطَفَيۡنَا
مِنۡ
عِبَادِنَاۖ
فَمِنۡهُمۡ
ظَالِمٞ
لِّنَفۡسِهِۦ
وَمِنۡهُم
مُّقۡتَصِدٞ
وَمِنۡهُمۡ
سَابِقُۢ
بِٱلۡخَيۡرَٰتِ
بِإِذۡنِ
ٱللَّهِۚ
ذَٰلِكَ
هُوَ
ٱلۡفَضۡلُ
ٱلۡكَبِيرُ
٣٢
ثم أعطينا -بعد هلاك الأمم- القرآن مَن اخترناهم من أمة محمد صلى الله عليه وسلم: فمنهم ظالم لنفسه بفعل بعض المعاصي، ومنهم مقتصد، وهو المؤدي للواجبات المجتنب للمحرمات، ومنهم سابق بالخيرات بإذن الله، أي مسارع مجتهد في الأعمال الصالحة، فَرْضِها ونفلها، ذلك الإعطاء للكتاب واصطفاء هذه الأمة هو الفضل الكبير.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

یہ کتاب اللہ نے امت مسلمہ کو دی ہے اور اللہ نے اس کام کے لئے اس کا انتخاب کیا ہے۔ جیسا کہ اللہ فرماتے ہیں :

ثم اور ثنا الکتب الذین اصطفینا من عبادنا ” “۔ ان الفاظ پر امت مسلمہ کو غور کرنا چاہئے۔ اللہ نے اسے بہت ہی بڑا اعزاز دیا ہے اور اللہ نے اس کے کاندھوں پر بہت بڑی ذمہ داری ڈال دی ہے۔ اس انتخاب کے ذریعہ سے اس پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اس کتاب کے کچھ تقاضے ہیں۔ کیا یہ برگزیدہ امت سن رہی ہے کہ قرآن کیا کہتا ہے ؟ اور اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہی ہے۔ اللہ نے تو اس امت کو اس انتخاب کی وجہ سے بہت بڑی عزت دی ہے اور اس کے بعد اللہ نے اس پر جزاء اور انعام مقرر کرکے اسے مزید فضیلت عطا کردی ہے۔

فمنھم ظالم ۔۔۔۔۔ باذن اللہ “۔ پہلا فریق تعداد میں زیادہ ہوگا اس لیے اس کا ذکر پہلے کیا گیا۔ یہ لوگ اپنے نفس پر ظلم کرنے والے ہوں گے اور ان لوگوں کے اعمال میں سیئات زیادہ ہوں گے اور نیکیاں کم ہوں گی۔ اور دوسرا فریق مقتصد ہوگا۔ یعنی میانہ روی والا۔ اس کی نیکیاں اور بدیاں برابر ہوں گی۔ اور تیسرا فریق سابق بالخیرات ہوگا یعنی نیکیوں میں سبقت لے جانے والا۔ اس کی نیکیاں برائیوں سے بہت زیادہ ہوں گی لیکن ان تینوں کے ساتھ اللہ کا فضل شامل رہے گا۔ یہ سب لوگ آنے والی آیتوں میں مذکور نعمتوں میں داخل ہوں گے۔ اگرچہ درجات میں مختلف ہوں گے۔

قرآن کریم نے امت کی کرامت کے سلسلے میں جو کچھ کہا ہے ہم اس میں کوئی اضافہ کرنا نہیں چاہتے کیونکہ اللہ نے اس امت کو برگزیدہ کرلیا ہے اور اس کیلئے جزائے خیر کا اعلان کردیا ہے۔ آیات یہی بتاتی ہیں کہ آخر کار امت کا انجام یہی ہوگا۔ امت سب کی سب اچھے انجام تک پہنچ جائے گی اور اس کی تفصیلات ہم اللہ پر چھوڑ دیتے ہیں۔ اس جزاء کو ہم یہاں لپیٹ کر رکھ دیتے ہیں جو اللہ نے اس امت کے ان تینوں قسم کے لوگوں کے لیے مقدر کر رکھی ہے اور وہ اچھی ہی جزاء ہوگی۔