تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: فاطر ٣٨:٣٥

٣٨:٣٥
ان الله عالم غيب السماوات والارض انه عليم بذات الصدور ٣٨
إِنَّ ٱللَّهَ عَـٰلِمُ غَيْبِ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۚ إِنَّهُۥ عَلِيمٌۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ ٣٨
إِنَّ
ٱللَّهَ
عَٰلِمُ
غَيۡبِ
ٱلسَّمَٰوَٰتِ
وَٱلۡأَرۡضِۚ
إِنَّهُۥ
عَلِيمُۢ
بِذَاتِ
ٱلصُّدُورِ
٣٨
إن الله مطَّلع على كل غائب في السموات والأرض، وإنه عليم بخفايا الصدور، فاتقوه أن يطَّلع عليكم، وأنتم تُضْمِرون الشك أو الشرك في وحدانيته، أو في نبوة محمد صلى الله عليه وسلم، أو أن تَعْصوه بما دون ذلك.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

ان اللہ علم ۔۔۔۔۔ بذات الصدور (38) ” “۔ اللہ کا کامل و شامل اور وسیع و عریض علم تو ان موضوعات کے بعد بیان کیا گیا ہے جن میں کہا گیا ہے کہ اللہ نے کتاب نازل کی اور اس کتاب کے جو لوگ وارث بتائے گئے ہیں ، دو جہاں والوں سے برگزیدہ کیے گئے ہیں۔ ان میں سے اگر بعض لوگوں سے کوئی ظلم و تقصیر صادر ہوجائے تو اللہ ان کو معاف کر دے گا۔ یہ اللہ کی جانب سے ان پر فضل و کرم ہوگا اور پھر اہل کفر کا جو انجام بتایا گیا۔ ان سب حقائق پر یہ آخری تبصرہ کہ وہ عالم الغیب ہے اور آسمانوں اور زمینوں میں پائی جانے والی ہر چیز کو جانتا ہے۔ وہ دلوں کی باتوں کو بھی جانتا ہے لہٰذا وہ تمام فیصلے اپنے اس عظیم اور کامل و شامل علم کے ذریعے کرے گا۔ اللہ کے فیصلوں میں کوئی ناانصافی نہ ہوگی۔