تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: فاطر ٥:٣٥

٥:٣٥
يا ايها الناس ان وعد الله حق فلا تغرنكم الحياة الدنيا ولا يغرنكم بالله الغرور ٥
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِنَّ وَعْدَ ٱللَّهِ حَقٌّۭ ۖ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَا ۖ وَلَا يَغُرَّنَّكُم بِٱللَّهِ ٱلْغَرُورُ ٥
يَٰٓأَيُّهَا
ٱلنَّاسُ
إِنَّ
وَعۡدَ
ٱللَّهِ
حَقّٞۖ
فَلَا
تَغُرَّنَّكُمُ
ٱلۡحَيَوٰةُ
ٱلدُّنۡيَا
وَلَا
يَغُرَّنَّكُم
بِٱللَّهِ
ٱلۡغَرُورُ
٥
يا أيها الناس إن وعد الله بالبعث والثواب والعقاب حق ثابت، فلا تخدعنَّكم الحياة الدنيا بشهواتها ومطالبها، ولا يخدعنَّكم بالله الشيطان. إن الشيطان لبني آدم عدو، فاتخذوه عدوًّا ولا تطيعوه، إنما يدعو أتباعه إلى الضلال؛ ليكونوا من أصحاب النار الموقدة.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

یا یھا الناس ۔۔۔۔۔ مناصحٰب السعیر (5 ۔ 6) ” “۔

اللہ کا وعدہ برحق ہے اور وہ واقع ہونے والا ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے ۔ جب یہ حق ہے تو حق ہوتا ہی وہ ہے جو واقع ہونے والاہو۔ حق نہ ضائع ہوتا ہے ، نہ باطل ہوتا ہے اور نہ کالعدم ہوتا ہے ، نہ اپنا دھارا اور راستہ بدلتا ہے ۔ اصل بات یہ ہے کہ انسان کو صرف یہ دنیاوی زندگی دھوکہ دیتی ہے ۔

فلا تغرنکم الحیٰوۃ الدنیا (35: 5) ” لہٰذا دنیا کی زندگی تمہیں دھوکہ نہ دے “۔ لیکن شیطان تو رات اور دن لگا ہوا ہے دھوکہ دینے میں ، اس لیے تم کو چاہئے کہ اس سے چوکنے رہو۔

ولا یغرنکم باللہ الغرور (35: 5) ” اور نہ کوئی بڑا دھوکہ بار تمہیں اللہ کے بارے میں دھوکہ دینے پائے “۔ شیطان نے اس بات کا اعلان کردیا ہے کہ وہ تمہارا دشمن ہے اور اسے تمہاری دشمنی پر اصرار بھی ہے ۔