تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: غافر ٦٩:٤٠

٦٩:٤٠
الم تر الى الذين يجادلون في ايات الله انى يصرفون ٦٩
أَلَمْ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ يُجَـٰدِلُونَ فِىٓ ءَايَـٰتِ ٱللَّهِ أَنَّىٰ يُصْرَفُونَ ٦٩
أَلَمۡ
تَرَ
إِلَى
ٱلَّذِينَ
يُجَٰدِلُونَ
فِيٓ
ءَايَٰتِ
ٱللَّهِ
أَنَّىٰ
يُصۡرَفُونَ
٦٩
ألا تعجب -أيها الرسول- من هؤلاء المكذِّبين بآيات الله يخاصمون فيها، وهي واضحة الدلالة على توحيد الله وقدرته، كيف يعدلون عنها مع صحتها؟ وإلى أيِّ شيء يذهبون بعد البيان التام؟
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 40:69إلى 40:76

ناحق پر خوش ہونے والے اور گھمنڈ کرنے والے کون تھے، یہ وقت کے بڑے لوگ تھے۔ ان کو کچھ دنیا کا سامان اور دنیا کی بڑائی مل گئی۔ اس کی وجہ سے وہ ناز اور گھمنڈ میں مبتلا ہوگئے۔ ان کی مادی کا میابی نے ان کے اندر غلط طورپر یہ احساس پیدا کردیا کہ وہ پائے ہوئے لوگ ہیں۔حالاں کہ حقیقت کے اعتبار سے وہ صرف محروم لوگ تھے۔

وقت کے یہ بڑے اولاً حق کے منکر بنتے ہیں۔ پھر ان کی پیروی میں عوام بھی حق کا انکار کرنے لگتے ہیں۔ ان آیات میں اگلی دنیا کا وہ منظر دکھایا گیا ہے جب کہ یہ لوگ اپنی متکبرانہ روش کی سزا پانے کےلیے جہنم میں ڈال دئے جائیں گے۔ ان کی جھوٹی بڑائی آخر کار انھیں جہاں پہنچائے گی وہ صرف ابدی ذلّت ہے جس سے نکلنے کی کوئی صورت ان کےلیے نہ ہوگی۔