تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: هود ٣٦:١١

٣٦:١١
واوحي الى نوح انه لن يومن من قومك الا من قد امن فلا تبتيس بما كانوا يفعلون ٣٦
وَأُوحِىَ إِلَىٰ نُوحٍ أَنَّهُۥ لَن يُؤْمِنَ مِن قَوْمِكَ إِلَّا مَن قَدْ ءَامَنَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوا۟ يَفْعَلُونَ ٣٦
وَأُوحِيَ
إِلَىٰ
نُوحٍ
أَنَّهُۥ
لَن
يُؤۡمِنَ
مِن
قَوۡمِكَ
إِلَّا
مَن
قَدۡ
ءَامَنَ
فَلَا
تَبۡتَئِسۡ
بِمَا
كَانُواْ
يَفۡعَلُونَ
٣٦
وأوحى الله سبحانه وتعالى إلى نوح -عليه السلام- لمَّا حق على قومه العذاب، أنه لن يؤمن بالله إلا مَن قد آمن مِن قبل، فلا تحزن يا نوح على ما كانوا يفعلون.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

اب قصہ نوح دوبارہ شروع ہوتا ہے۔ اس کا دوسرا منظر سامنے آتا ہے۔ حضرت نوح اب اپنے رب کی طرف سے ہدایات پاتے ہیں اور احکام الہی یوں وارد ہیں :

وَاُوْحِيَ اِلٰي نُوْحٍ اَنَّهٗ لَنْ يُّؤْمِنَ مِنْ قَوْمِكَ اِلَّا مَنْ قَدْ اٰمَنَ : " نوح پر وحی کی گئی کہ تمہاری قوم میں سے جو لوگ ایمان لاچکے ، بس وہ لاچکے ، اب کوئی ماننے والا نہیں ہے۔ "

جو دل ایمان لانے کے لیے آمادہ تھے وہ ایمان لاچکے ، جو رہ گئے ان کے اندر ایمان لانے کی استعداد باقی نہیں رہی ہے۔ نہ وہ اس طرف کوئی رجحان رکھتے ہیں۔ یہ تھی اللہ کی جانب سے حضرت نوح کو آخری اطلاع اور یہ اللہ کی جانب سے تھی اور اللہ تو علیم ہے۔ لہذا اب دعوتی مہم جاری رکھنے کا کوئی فائدہ نہ رہا۔ اور کہہ دیا گیا کہ اب ان کی جانب سے کفر تکذیب اور خندہ و استہزاء کی کوئی پروا نہ کرو۔

فَلَا تَبْتَىِٕسْ بِمَا كَانُوْا يَفْعَلُوْنَ : " ان کے کرتوتوں پر غم کھانا چھوڑ دو " آپ اپنی ناکامی پر رنج و الم محسوس کرنا چھوڑ دیں۔ اور یہ لوگ جو کرتے رہے ، اور جو کر رہے ہیں اس کی کوئی پروا نہ کریں۔ خود اپنی فکر نہ کریں وہ آپ کو کچھ بھی تکلیف نہیں پہنچا سکتے۔ اور نہ ان کے لیے حسرت کریں کیونکہ ان سے خبر کی کوئی توقع نہیں ہے۔ لہذا ان کا معاملہ یہاں ختم کردیجئے۔