تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: هود ٣٧:١١

٣٧:١١
واصنع الفلك باعيننا ووحينا ولا تخاطبني في الذين ظلموا انهم مغرقون ٣٧
وَٱصْنَعِ ٱلْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا وَلَا تُخَـٰطِبْنِى فِى ٱلَّذِينَ ظَلَمُوٓا۟ ۚ إِنَّهُم مُّغْرَقُونَ ٣٧
وَٱصۡنَعِ
ٱلۡفُلۡكَ
بِأَعۡيُنِنَا
وَوَحۡيِنَا
وَلَا
تُخَٰطِبۡنِي
فِي
ٱلَّذِينَ
ظَلَمُوٓاْ
إِنَّهُم
مُّغۡرَقُونَ
٣٧
واصنع السفينة بمرأى منَّا وبأمرنا لك ومعونتنا، وأنت في حفظنا وكلاءتنا، ولا تطلب مني إمهال هؤلاء الذين ظلموا أنفسهم من قومك بكفرهم، فإنهم مغرقون بالطوفان. وفي الآية إثبات صفة العين لله تعالى على ما يليق به سبحانه.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

وَاصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا : " اور ہماری نگرانی میں ہماری وحی کے مطابق ایک کشتی بنانی شروع کردو "۔ ہماری مرضی اور ہدایات کے مطابق۔

وَلَا تُخَاطِبْنِيْ فِي الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا ۚ اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ : " اور دیکھو جن لوگوں نے ظلم کیا ہے ان کے حق میں مجھ سے کوئی سفارش نہ کرنا ، یہ سارے کے سارے اب ڈوبنے والے ہیں "

ان کے بارے میں فیصلہ ہوچکا ہے اور ان کا انجام اب متعین ہوچکا ہے۔ لہذا اب آپ ایسے لوگوں کے بارے میں مجھ سے بات نہ کریں۔ نہ ان کی ہدایات کے لیے دعاٗ کریں اور نہ ہی بد دعا کیونکہ دوسری جگہ قرآن مجید میں یہ ٓیا ہے کہ حضرت نوح نے ان کے خلاف بد دعا فرمائی۔ لہذا یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ مایوسی اس کے بعد تھی۔ جب فیصلہ ہوچکا تو اللہ کے ساتھ خطاب ممنوع ہوگیا