تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: ابراهيم ٤٧:١٤

٤٧:١٤
فلا تحسبن الله مخلف وعده رسله ان الله عزيز ذو انتقام ٤٧
فَلَا تَحْسَبَنَّ ٱللَّهَ مُخْلِفَ وَعْدِهِۦ رُسُلَهُۥٓ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌۭ ذُو ٱنتِقَامٍۢ ٤٧
فَلَا
تَحۡسَبَنَّ
ٱللَّهَ
مُخۡلِفَ
وَعۡدِهِۦ
رُسُلَهُۥٓۚ
إِنَّ
ٱللَّهَ
عَزِيزٞ
ذُو
ٱنتِقَامٖ
٤٧
فلا تحسبن -أيها الرسول- أن الله يخلف رسله ما وعدهم به من النصر وإهلاك مكذبيهم. إن الله عزيز لا يمتنع عليه شيء، منتقم من أعدائه أشد انتقام. والخطاب وإن كان خاصًّا بالنبي صلى الله عليه وسلم، فهو موجَّه لعموم الأمة.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

آیت نمبر 47

یہ لوگ جو تدابیر کرتے ہیں یہ اللہ کے مقابلے میں موثر نہیں ہیں اور اللہ اپنے رسولوں اور اپنی تحریکات کی جب مدد کرنا چاہے تو اسے کوئی نہیں روک سکتا۔ “ وہ تو زبردست ہے اور انتقام لینے والا ہے ”۔

اس سے کوئی ظالم بچ کر نہیں نکل سکتا اور کوئی مکار اس کے عذاب سے نجات نہیں پا سکتا۔ یہاں ظلم اور سرکشی اور عظیم مکاری کے بالمقابل لفظ انتقام لایا گیا ہے جو نہایت موزوں ہے کیونکہ ظالم اور مکار سے انتقام لینا مناسب ہوتا ہے۔ اللہ کی طرف جب انتقام کی نسبت ہو تو اس کے معنی ہوتے ہیں ظلم و سرکشی کی مناسب جزاء و سزا اور اس میں بھی عادلانہ طریق کار۔ اور یہ عادلانہ جزاء و سزا تب واقعہ ہوگی۔