تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: ابراهيم ٤٨:١٤

٤٨:١٤
يوم تبدل الارض غير الارض والسماوات وبرزوا لله الواحد القهار ٤٨
يَوْمَ تُبَدَّلُ ٱلْأَرْضُ غَيْرَ ٱلْأَرْضِ وَٱلسَّمَـٰوَٰتُ ۖ وَبَرَزُوا۟ لِلَّهِ ٱلْوَٰحِدِ ٱلْقَهَّارِ ٤٨
يَوۡمَ
تُبَدَّلُ
ٱلۡأَرۡضُ
غَيۡرَ
ٱلۡأَرۡضِ
وَٱلسَّمَٰوَٰتُۖ
وَبَرَزُواْ
لِلَّهِ
ٱلۡوَٰحِدِ
ٱلۡقَهَّارِ
٤٨
وانتقام الله تعالى مِن أعدائه في يوم القيامة يوم تُبَدَّل هذه الأرض بأرض أخرى بيضاء نقيَّة كالفضة، وكذلك تُبَدَّل السموات بغيرها، وتخرج الخلائق من قبورها أحياء ظاهرين للقاء الله الواحد القهار، المتفرد بعظمته وأسمائه وصفاته وأفعاله وقهره لكل شيء.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

یہ کیونکر ہوگا ، اس کی تفصیلات کا ہمیں علم نہیں ہے ، نہ ہمیں معلوم ہے کہ اس دوسری زمین کی طبیعات کیسی ہوں گی اور یہ ہوگی کہاں ، البتہ قرآن کی یہ آیات ہمارے شعور کے اندر یہ تاثر بٹھاتی ہے کہ یہ لوگ کیا ہیں اور ان کی مکاریاں کیا ہیں ، اللہ کی قدرت کا تو یہ عالم ہے کہ وہ زمین و آسمان کو بدل کر رکھ دے گا۔ ان کی کامیابیاں اللہ کے مقابلے میں حقیر اور معمولی ہیں۔ وہ دیکھو دوسرے منظر میں یہ زمین و آسمان تو قدرت نے بدل کر رکھ دئیے ! !

آیت نمبر 48

ترجمہ : ان کو یہ احساس ہوجائے گا کہ وہ تو اللہ کے سامنے کھلے اور ننگے کھڑے ہیں۔ کوئی انہیں بچانے والا نہیں ہے وہ اپنے گھروں میں نہیں ہیں ! وہ تو قبروں میں بھی نہیں ! وہ تو ایک کھلے میدان میں اللہ واحد وقہار کے سامنے کھڑے ہیں۔ یہاں “ قہار ” کا لفظ عمداً استعمال ہوا تا کہ سرکشوں اور ڈکٹیٹروں کو ذرا متنبہ کردیا جائے کہ ان کی سرکشی اللہ کے مقابلے میں کچھ نہیں ہے۔ اگرچہ یہ سرکشی اور مکاری اس قدر سخت ہو کہ اس سے پہاڑوں کو بنایا جاسکتا ہو۔

اب ہمارے سامنے مناظر عذاب قیامت میں سے ایک شدید اور سخت منظر پیش کیا جاتا ہے جو نہایت ذلیل کرنے والا ہے اور سرکشوں اور جابر مکاروں کے لئے موزوں ہے۔