تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: لقمان ٢٧:٣١

٢٧:٣١
ولو انما في الارض من شجرة اقلام والبحر يمده من بعده سبعة ابحر ما نفدت كلمات الله ان الله عزيز حكيم ٢٧
وَلَوْ أَنَّمَا فِى ٱلْأَرْضِ مِن شَجَرَةٍ أَقْلَـٰمٌۭ وَٱلْبَحْرُ يَمُدُّهُۥ مِنۢ بَعْدِهِۦ سَبْعَةُ أَبْحُرٍۢ مَّا نَفِدَتْ كَلِمَـٰتُ ٱللَّهِ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌۭ ٢٧
وَلَوۡ
أَنَّمَا
فِي
ٱلۡأَرۡضِ
مِن
شَجَرَةٍ
أَقۡلَٰمٞ
وَٱلۡبَحۡرُ
يَمُدُّهُۥ
مِنۢ
بَعۡدِهِۦ
سَبۡعَةُ
أَبۡحُرٖ
مَّا
نَفِدَتۡ
كَلِمَٰتُ
ٱللَّهِۚ
إِنَّ
ٱللَّهَ
عَزِيزٌ
حَكِيمٞ
٢٧
ولو أن أشجار الأرض كلها بُريت أقلامًا والبحر مداد لها، ويُمَد بسبعة أبحر أخرى، وكُتِب بتلك الأقلام وذلك المداد كلمات الله من علمه وحكمه، وما أوحاه إلى ملائكته ورسله؛ لتكسرت تلك الأقلام، ولنفِد ذلك المداد، ولم تنفد كلمات الله التامة التي لا يحيط بها أحد. إن الله عزيز في انتقامه ممن أشرك به، حكيم في تدبير خلقه. وفي الآية إثبات صفة الكلام لله -تعالى- حقيقة كما يليق بجلاله وكماله سبحانه.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 31:25إلى 31:27

کائنات اتنی وسیع اور اتنی عظیم ہے کہ کوئی بھی شخص ہوش و حواس کے ساتھ یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ اس کو خدا کے سوا کسی اور نے بنایاہے۔ مگر اس حقیقت کو ماننے کے باوجود انسان کا حال یہ ہے کہ وہ خدا کے سوا دوسری چیزوں کو عظمت کا مقام دیتاہے۔ یہی وہ غیر معقول رویہ ہے جس کا دوسرا نام شرک ہے۔

خدا کی عظمت اس سے زیادہ ہے کہ وہ لفظوں میں بیان کی جاسکے۔ علوم طبیعی کی تاریخ ہزاروں برس کے دائرہ میں پھیلی ہوئی ہے۔ مگر بے شمار تحقیقات کے باوجود ابھی تک کسی ایک چیز کے بارے میں بھی پوری معلومات حاصل نہ ہوسکیں۔ انسان کو آج بھی یہ نہیں معلوم کہ خلا میں کتنے ستارے ہیں۔ زمین میں نباتات اور حیوانات کی کتنی قسمیں ہیں۔ درخت کی ایک پتی اور ریت کے ایک ذرّے کی ماہیت کیا ہے۔ سمندر کے اندر کتنے عجائبات چھپے ہوئے ہیں۔ غرض اس دنیا کی کوئی بھی چھوٹی یابڑی چیز ایسی نہیں جس کے بارے میں انسان کو پوری معلومات حاصل ہوچکی ہوں، یہی واقعہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ درختوں کے قلم اور سمندروں کی سیاہی بھی خدا کے اَن گنت کرشموںکو تحریرکرنے کےلیے کافی نہیں۔