تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: مريم ٤٠:١٩

٤٠:١٩
انا نحن نرث الارض ومن عليها والينا يرجعون ٤٠
إِنَّا نَحْنُ نَرِثُ ٱلْأَرْضَ وَمَنْ عَلَيْهَا وَإِلَيْنَا يُرْجَعُونَ ٤٠
إِنَّا
نَحۡنُ
نَرِثُ
ٱلۡأَرۡضَ
وَمَنۡ
عَلَيۡهَا
وَإِلَيۡنَا
يُرۡجَعُونَ
٤٠
إنا نحن الوارثون للأرض ومَن عليها بفنائهم وبقائنا بعدهم وحُكْمنا فيهم، وإلينا مصيرهم وحسابهم، فنجازيهم على أعمالهم.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 19:39إلى 19:40

وانذر ھم یوم الحسرۃ (91 : 93) ” اور ان کو پچھتاوے کے دن سے ڈرائو “۔ اس قدر حسرتیں ہوں گی کہ قیامت کا دن ہی حسرتوں کا دن ہوگا۔ حسرت کے سوا وہاں کچھ نہ وہ گا۔ میدان میں ہر طرف حسرت ہی حسرت ہوگی لیکن اس دن حسرت کرنا مفید مطلب نہ ہوگا۔

اذ قضی الامر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لایئو منون (91 : 93) ” جب فیصلہ کردیا جائے اور یہ لوگ غفلت میں ہیں اور ایمان نہیں لارہے “۔ یہ لوگ ایمان نہیں لارہے لیکن قیامت کا دن ان کے کفر کے ساتھ ڑا ہوا ہے۔ جس غفلت میں یہ ڈوبے ہوئے ہیں اس کے ساتھ قیامت جڑی ہوئی ہے۔

ان کو اس دن سے ڈرائو جس میں شک نہیں ہے۔ کیونکہ زمین کے اوپر جو چیز اور جو انسان بھی ہیں وہ سب کے سب اللہ کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ اللہ ہی سب کا وارث ہے۔