تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: نوح ٢٦:٧١

٢٦:٧١
وقال نوح رب لا تذر على الارض من الكافرين ديارا ٢٦
وَقَالَ نُوحٌۭ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى ٱلْأَرْضِ مِنَ ٱلْكَـٰفِرِينَ دَيَّارًا ٢٦
وَقَالَ
نُوحٞ
رَّبِّ
لَا
تَذَرۡ
عَلَى
ٱلۡأَرۡضِ
مِنَ
ٱلۡكَٰفِرِينَ
دَيَّارًا
٢٦
وقال نوح -عليه السلام- بعد يأسه من قومه: ربِّ لا تترك من الكافرين بك أحدًا حيًّا على الأرض يدور ويتحرك. إنك إن تتركهم دون إهلاك يُضلوا عبادك الذين قد آمنوا بك عن طريق الحق، ولا يأت من أصلابهم وأرحامهم إلا مائل عن الحق شديد الكفر بك والعصيان لك. ربِّ اغفر لي ولوالديَّ ولمن دخل بيتي مؤمنًا، وللمؤمنين والمؤمنات بك، ولا تزد الكافرين إلا هلاكًا وخسرانًا في الدنيا والآخرة.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

وقال نوح ........................ الاتبارا

حضرت نوح (علیہ السلام) کے قلب مبارک پر یہ الہام آگیا تھا کہ اس ناپاک زمین کو غسل دینا مقصود ہے اور ظالموں اور سرکشوں نے اس کو شروفساد سے بھر دیا ہے۔ یہ شر اس قدر غالب ہوگیا ہے اور اس قدر جم گیا ہے کہ اس نے دعوت دین کو جامد کرکے رکھ دیا ہے اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانے کے لوگ اب ناقابل اصلاح ہوگئے ہیں اور بارہا ایسا ہوتا ہے کہ جب کسی وقت اہل زمین ناقابل اصلاح ہوجائیں تو ان پر عام تباہی آتی ہے اور اس طرح اللہ زمین کی تطہیر فرما دیتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں تک حضرت نوح (علیہ السلام) پہنچ چکے تھے۔ اس لئے انہوں نے دعا فرمائی کہ اے اللہ ، ان لوگوں کو ختم کردے ، ظالموں کو بیخ وبن سے اکھاڑ دے ، کوئی زندہ وجود باقی نہ رہے ، اور انہوں نے دلیل بھی دے دی۔