Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: Qaf 50:24

50:24
القيا في جهنم كل كفار عنيد ٢٤
أَلْقِيَا فِى جَهَنَّمَ كُلَّ كَفَّارٍ عَنِيدٍۢ ٢٤
أَلۡقِيَا
فِي
جَهَنَّمَ
كُلَّ
كَفَّارٍ
عَنِيدٖ
٢٤
˹It will be said to both angels,˺ “Throw into Hell every stubborn disbeliever,
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith
You are reading a tafsir for the group of verses 50:23 to 50:24
ہمارے اعمال کے گواہ ٭٭

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہو رہا ہے کہ جو فرشتہ ابن آدم کے اعمال پر مقرر ہے وہ اس کے اعمال کی شہادت دے گا اور کہے گا کہ یہ ہے میرے پاس تفصیل بلا کم و کاست حاضر ہے۔

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ اس فرشتے کا کلام ہو گا جسے سائق کہا گیا ہے جو اس کو محشر میں لے آیا تھا۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں میرے نزدیک مختار قول یہ ہے کہ وہ اس فرشتے پر بھی اور گواہی دینے والے فرشتے دونوں پہ مشتمل ہے اب اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے فیصلے عدل و انصاف سے کرے گا۔ «القیا» تثنیہ کا صیغہ ہے بعض نحوی کہتے ہیں کہ بعض عرب واحد کو «تثنیہ» کر دیا کرتے ہیں جیسے کہ حجاج کا مقولہ مشہور ہے کہ وہ اپنے جلاد سے کہتا تھا «اضربا عنقہ» تم دونوں اس کی گردن مار دو حالانکہ جلاد ایک ہی ہوتا تھا۔ ابن جریر رحمہ اللہ نے اس کی شہادت میں عربی کا ایک شعر بھی پیش کیا ہے [تفسیر ابن جریر الطبری:422/11] ‏

بعض کہتے ہیں کہ دراصل یہ نون تاکید ہے جس کی تسہیل الف کی طرف کر لی ہے لیکن یہ بعید ہے اس لیے کہ ایسا تو وقف کی حالت میں ہوتا ہے بظاہر یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ خطاب اوپر والے دونوں فرشتوں سے ہو گا، لانے والے فرشتے نے اسے حساب کے لیے پیش کیا اور گواہی دینے والے نے گواہی دے دی تو اللہ تعالیٰ ان دونوں کو حکم دے گا کہ اسے جہنم کی آگ میں ڈال دو جو بدترین جگہ ہے اللہ ہمیں محفوظ رکھے۔

صفحہ نمبر8728