تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: ق ٢٤:٥٠

٢٤:٥٠
القيا في جهنم كل كفار عنيد ٢٤
أَلْقِيَا فِى جَهَنَّمَ كُلَّ كَفَّارٍ عَنِيدٍۢ ٢٤
أَلۡقِيَا
فِي
جَهَنَّمَ
كُلَّ
كَفَّارٍ
عَنِيدٖ
٢٤
يقول الله للمَلَكين السائق والشهيد بعد أن يفصل بين الخلائق: ألقيا في جهنم كل جاحد أن الله هو الإلهُ الحقُّ، كثيرِ الكفر والتكذيب معاند للحق، منَّاع لأداء ما عليه من الحقوق في ماله، مُعْتدٍ على عباد الله وعلى حدوده، شاكٍّ في وعده ووعيده، الذي أشرك بالله، فعبد معه معبودًا آخر مِن خلقه، فألقياه في عذاب جهنم الشديد.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 50:24إلى 50:26

القیا فی جھنم کل کفار عنید (50 : 24) مناع اللخیر معتد مریب (50 : 25) الذی جعل ۔۔۔۔ العذاب الشدید ۔ (50 : 26) ” حکم دیا گیا ، پھینک دو جہنم میں ہر کٹے کافر کو جو حق سے عناد رکھتا تھا ۔ خیر کو روکنے والا اور حد سے تجاوز کرنے والا ، شک میں پڑا ہوا تھا اور اللہ کے سوا کسی دوسرے کو خدا بنائے بیٹھا تھا ، ڈال دو اسے سخت عذاب میں “۔

ان صفات کے ذکر سے ، اس مشکل وقت کی مشکلات میں گرفتار لوگوں کے خوف و ہراس میں اور اضافہ ہوجاتا ہے۔ کیونکہ پہلے سے مشکل میں گرفتار مجرموں پر اللہ جبار وقہار کے غضب کا ڈر پیدا ہوجاتا ہے۔ کیونکہ یہ تمام صفات اس بات کی مستحق ہیں کہ مجرم کو زیادہ سے زیادہ سزا دی جائے۔ سخت کافر ، عناد رکھنے والا ہر بھلائی سے روکنے والا ، ہر معاملے میں حد سے گزرنے والا اور غایب درجے کا شکی جس نے اللہ کے ساتھ دوسرے الٰہ بنا رکھے ہیں اور ان صفات کو گنوانے کے بعد پھر تاکید امر فالقیہ فی العذاب الشدید (50 : 26) ” ڈال دو اسے سخت عذاب میں “ یعنی جہنم کے عذاب میں جو شدید ہی ہوگا۔