تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: ق ٣٣:٥٠

٣٣:٥٠
من خشي الرحمان بالغيب وجاء بقلب منيب ٣٣
مَّنْ خَشِىَ ٱلرَّحْمَـٰنَ بِٱلْغَيْبِ وَجَآءَ بِقَلْبٍۢ مُّنِيبٍ ٣٣
مَّنۡ
خَشِيَ
ٱلرَّحۡمَٰنَ
بِٱلۡغَيۡبِ
وَجَآءَ
بِقَلۡبٖ
مُّنِيبٍ
٣٣
يقال لهم: هذا الذي كنتم توعدون به - أيها المتقون - لكل تائب مِن ذنوبه، حافظ لكل ما قَرَّبه إلى ربه، من الفرائض والطاعات، مَن خاف الله في الدنيا ولقيه يوم القيامة بقلب تائب من ذنوبه.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 50:32إلى 50:33

ھذا ما توعدون لکل اواب حفیظ (50 : 32) من خشی ۔۔۔۔۔ بقلب منیب (50 : 33) ” یہ ہے وہ چیز جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔ ہر اس شخص کے لئے جو رجوع کرنے والا اور بڑی نگہداشت کرنے والا تھا ، جو بےدیکھے رحمٰن سے ڈرتا تھا اور جو دل گرویدہ لیے ہوئے آیا ہے “۔ تو عالم بالا سے ان کی یہ تعریف کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ اللہ کے پیمانے کے مطابق یہ اس کی طرف رجوع کرنے والے ہیں اور اپنے نفس کی پوری طرح حفاظت کرتے ہیں ، یہ رحمان سے ڈرنے والے ہیں اور انہوں نے اسے کبھی دیکھا نہ تھا۔ اللہ کی طرف ان کے دل لگے ہوئے ہیں اور وہ اس کے مطیع فرمان ہیں۔