تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: سبإ ٢٣:٣٤

٢٣:٣٤
ولا تنفع الشفاعة عنده الا لمن اذن له حتى اذا فزع عن قلوبهم قالوا ماذا قال ربكم قالوا الحق وهو العلي الكبير ٢٣
وَلَا تَنفَعُ ٱلشَّفَـٰعَةُ عِندَهُۥٓ إِلَّا لِمَنْ أَذِنَ لَهُۥ ۚ حَتَّىٰٓ إِذَا فُزِّعَ عَن قُلُوبِهِمْ قَالُوا۟ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ ۖ قَالُوا۟ ٱلْحَقَّ ۖ وَهُوَ ٱلْعَلِىُّ ٱلْكَبِيرُ ٢٣
وَلَا
تَنفَعُ
ٱلشَّفَٰعَةُ
عِندَهُۥٓ
إِلَّا
لِمَنۡ
أَذِنَ
لَهُۥۚ
حَتَّىٰٓ
إِذَا
فُزِّعَ
عَن
قُلُوبِهِمۡ
قَالُواْ
مَاذَا
قَالَ
رَبُّكُمۡۖ
قَالُواْ
ٱلۡحَقَّۖ
وَهُوَ
ٱلۡعَلِيُّ
ٱلۡكَبِيرُ
٢٣
ولا تنفع شفاعة الشافع عند الله تعالى إلا لمن أذن له. ومن عظمته وجلاله عز وجل أنه إذا تكلم سبحانه بالوحي فسمع أهل السماوات كلامه أُرعدوا من الهيبة، حتى يلحقهم مثل الغشي، فإذا زال الفزع عن قلوبهم سأل بعضهم بعضًا: ماذا قال ربكم؟ قالت الملائكة: قال الحق، وهو العليُّ بذاته وقهره وعلوِّ قدْره، الكبير على كل شيء.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 34:22إلى 34:23

اگر چہ ہر دور میں بیشتر لوگ آخرت کو مانتے رہے ہیں۔ مگر ہر دور میں شیطان نے ایسے خود ساختہ عقیدے لوگوں کے درمیان رائج کردئے جنھوں نے ان کو آخرت کی پکڑ سے بے خوف کردیا۔ انھیں میں سے ایک یہ فرضی عقیدہ بھی ہے کہ بعض ہستیوں کو خدا کے یہاں اتنا مقام حاصل ہے کہ وہ اپنی سفارش سے جس کو چاہیں بخشوا سکتے ہیں۔

مگر اس قسم کا ہر عقیدہ خدا کی خدائی کا کمتر اندازہ ہے۔ یہ واقعہ بھی کیسا عجیب ہے کہ جن ہستیوں کا اپنا یہ حال ہے کہ خدا کی عظمت کے احساس نے انھیں سراسیمہ کررکھا ہے، ان کے بارے میں ان کے پرستاروں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ خدا کے یہاں ان کی نجات کےلیے کافی ہوجائیں گے۔