تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: سبإ ٤٨:٣٤

٤٨:٣٤
قل ان ربي يقذف بالحق علام الغيوب ٤٨
قُلْ إِنَّ رَبِّى يَقْذِفُ بِٱلْحَقِّ عَلَّـٰمُ ٱلْغُيُوبِ ٤٨
قُلۡ
إِنَّ
رَبِّي
يَقۡذِفُ
بِٱلۡحَقِّ
عَلَّٰمُ
ٱلۡغُيُوبِ
٤٨
قل -أيها الرسول- لمن أنكر التوحيد ورسالة الإسلام: إن ربي يقذف الباطل بحجج من الحق، فيفضحه ويهلكه، والله علام الغيوب، لا يخفى عليه شيء في الأرض ولا في السماء.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

قل ان ربی ۔۔۔۔ الغیوب (48) ” “۔ یعنی میں جو چیز لے کر آیا ہوں وہ حق ہے ۔ یہ وہ مضبوط حق ہے جسے اللہ قوت سے پھینکتا ہے ۔ اس سچائی کے مقابلے میں کون کھڑا ہوسکتا ہے جسے اللہ زور دار انداز سے نازل کررہا ہو ۔ یہ ایک نہایت ہی مجسم اور مصور انداز تعبیر ہے ۔ گویا حق کے گولے برس رہے ہیں ، بمباری ہورہی ہے اور کسی کو ہمت نہیں ہے کہ اس کے سامنے کھڑا ہوسکے ۔ اللہ سچائی کے گولے پھینک رہا ہے جو علام الغیوب ہے ۔ وہ علم سے یہ گولے پھینک رہا ہے ۔ علم کے ساتھ ان کا رخ کسی کی طرف کرتا ہے ۔ اس کا نشانہ خطا نہیں ہوتا ۔ کوئی چیز اس سے غائب نہیں ہے اور کوئی چیز اس سچائی کی ذد سے بچ نہیں سکتی اس لیے کہ رکاوٹ بننے والی کوئی چیز سامنے نہیں ہے ۔ اللہ کے سامنے نشانہ کھلا ہے ۔